ملک میںنسل کشی روکنا کٹھن کام،قائدین خاطی اور خاطیوں کے محافظ بھی۔ عالمی ماہرین کا تاثر
نئی دہلی : ’’ہندوستان دہانے پر : نسل کشی کی روک تھام‘‘ کے زیرعنوان سہ روزہ گلوبل سمٹ کا ورچول انعقاد عمل میں آیا جہاں ماہرین نے کہاکہ ہندوستان نہ صرف نسل کشی کے دہانے پر پہونچ چکا ہے بلکہ یہ عمل پہلے ہی شروع ہوچکا ہے۔ جب کٹر پسند ہندوتوا کے پجاری یتی نرسنگھانند کھلے عام ہندوستان کے مسلمانوں کو حملوں کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کی اپیل کرتا ہے تو یہ محض زبانی باتیں نہیں بلکہ نسل کشی کے لئے باضابطہ اپیل کہی جائے گی۔ کینیڈا کی غیر نفع بخش تنظیم ’سنٹینل پراجکٹ‘ کے ایکزیکٹیو ڈائرکٹر اور شرکاء میں شامل کرسٹوفر ٹک ووڈ نے کہاکہ اِس ملک میں نسل کشی کو روکنا کٹھن کام ہے کیوں کہ قائدین ہی خاطی بھی ہیں اور دیگر خاطیوں کے محافظین بھی۔ اِس ملک میں مسلمانوں کے تئیں بڑھتی عداوت اور عدم رواداری کو دیکھتے ہوئے صدر جینو سائیڈ واچ ڈاکٹر گریگوری اسٹانٹن جنھوں نے یوگانڈہ کی نسل کشی کی پیش قیاسی کی تھی، وہ بار بار متنبہ کرچکے ہیں کہ اگر ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے تو ہندوستان میں اِسی نوعیت کے حالات پیدا ہوسکتے ہیں۔ گزشتہ چند ماہ میں ہندوستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھی ہے اور اِس درمیان مختلف ریاستوں میں انتخابات ہورہے ہیں جن میں اترپردیش شامل ہے۔ بالخصوص مسلم اقلیت کے تئیں نفرت پر مبنی واقعات پیش آرہے ہیں اور ان کا کوئی مداوا نہیں ہورہا جس کے نتیجہ میں یہ واقعات بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ نفرت پر مبنی جرائم جیسے اشتعال انگیز تقریر، تشدد کی حرکتیں، بڑھتے ہوئے سوشل میڈیا کو بھی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ سینئر ہیومن رائٹس اٹارنی متیالی جین نے سوشل میڈیا کے بڑے پلیٹ فارم فیس بُک پر شدید تنقید کی کہ وہ غیرذمہ دارانہ برتاؤ کررہا ہے جس کی وجہ سے یہ نفرت پھیلانے کا پلیٹ فارم بنتا جارہا ہے۔ ہر فرقہ دوسرے فرقہ اور ہر برادری دوسری برادری کو نشانہ بنارہی ہے۔ یہ کسی بھی سماج کے لئے ٹھیک نہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ حالیہ حجاب مسئلہ جہاں مسلم لڑکیوں کو کالجوں اور اسکول میں حجاب کے ساتھ داخل ہونے سے منع کردیا گیا، وہ نفرت کی تقریروں اور باتوں کے لئے گرم موضوع بن گیا جس کا شرپسند عناصر فائدہ اُٹھارہے ہیں۔ اترپردیش میں محمد اخلاق احمد کی 2015 ء کے اوائل میں لنچنگ کے بعد سے مخالف مسلمان تشدد میں اضافہ ہی ہوتا گیا ہے۔ جرنلسٹ کوشک راج نے اخلاق احمد کی موت کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ نریندر مودی زیرقیادت حکومت نے وہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا جس کے بعد وقفہ وقفہ سے ایسے واقعات پیش آتے رہے ہیں لیکن مرکزی حکومت یا بی جے پی اقتدار والی ریاستوں نے اِن کے سدباب کے لئے کچھ نہیں کیا۔ جرنلسٹ علی شان جعفری جنھوں نے ہندوستان میں پیش آئے مخالف مسلم تشدد کو دستاویزی شکل دی ہے، اُنھوں نے کہاکہ اِس طرح کے تشدد کی حکومت ہند اور اُس کے وزراء نے پشت پناہی کی ہے۔ کوویڈ بحران کے وقت ممتاز مسلم افراد کو بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ یونہی چھوڑ دینے والی بات نہیں، ان کا سخت نوٹ لینا چاہئے ورنہ حالات دگرگوں ہوجائیں گے۔