ہندوستان میں پارلیمنٹ کی نشستیں 850 تک بڑھانے کی تجویز

   

آئینی و سیاسی فیصلے کو عملی شکل دینے 131ویں ترمیمی بل لانے پر حکومت کا غور

نئی دہلی ۔ 14 اپریل (ایجنسیز) ہندوستان میں لوک سبھا حلقوں کی نئی حد بندی (Delimitation) سے متعلق ایک اہم اور حیران کن تجویز تیار کی گئی ہے جس کے تحت پارلیمنٹ کی نشستوں کی تعداد میں بڑی سطح پر اضافہ کیا جائے گا۔ مجوزہ منصوبہ کے مطابق موجودہ لوک سبھا نشستوں کی تعداد کو بڑھا کر تقریباً 850 تک لے جانے کا امکان ہے۔ اس میں 815 نشستیں ریاستوں کے لئے جبکہ 35 نشستیں مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق اس بڑے آئینی و سیاسی فیصلے کو عملی شکل دینے کے لیے حکومت 131ویں آئینی ترمیمی بل لانے پر غور کر رہی ہے اور اس حوالے سے ابتدائی معلومات ارکان پارلیمنٹ تک بھی پہنچائی جا چکی ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ بڑھتی ہوئی آبادی کے مطابق عوامی نمائندگی کو بہتر بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ منصوبہ منظور ہو جاتا ہے تو پارلیمنٹ میں نمائندگی کا دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا تاہم اس ممکنہ تبدیلی پر سیاسی حلقوں میں بحث بھی شروع ہو گئی ہے، خاص طور پر یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ شمالی اور جنوبی ریاستوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ دوسری جانب نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں ارکان کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مطابق نشستوں کی پہلے ہی منصوبہ بندی مکمل کی جا چکی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جا سکتا ہے جو ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں ایک بڑے آئینی اصلاحاتی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
کورین نیوز ایجنسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ میزائل نے کوریا کے مغربی سمندر کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے درستی کے ساتھ اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔یہ تجربات چوئے ہایون نام کے بحری جہاز سے کیے گئے جو کہ شمالی کوریا کے اہم سمندری ہتھیاروں میں سے ایک ہے اور پانچ ہزار ٹن سے زائد وزن رکھنے والا دوسرے جنگی ساز و سامان سے بھی لیس ہے۔رپورٹ کے مطابق کِم جونگ اْن ملک کی بحری صلاحیتوں کو بڑھانے کے حوالے سے کوششیں کر رہے ہیں۔نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری کی گئی تصویر میں جہاز سے لانچ کیے گئے میزائل کی ابتدائی پرواز نظر ا? رہی ہے اور اس کی دم پر نارنجی رنگ کی روشنی بھی دکھائی دیتی ہے۔اسی طرح ایک اور تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ کِم جونگ اْن دور سے ٹیسٹ فائر کو دیکھ رہے ہیں جبکہ بحریہ کے اہلکار بھی ان کے ساتھ موجود ہیں۔رپورٹ کے مطابق کِم جونگ اْن کو منگل کے روز تباہ کن ہتھیاروں کے حوالے سے دوسرے منصوبوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی جس کو انہوں نے ایک اقدام قرار دیا۔کِم جونگ اْن نے فوج کی تیاری اور سٹریٹیجک مضبوطی پر اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو ا?گے بڑھانا ’سب سے اہم اور ترجیحی‘ کام ہے۔