ہوا میں آتے ہی گر جاتا ہے کہ کرونا‘ انفکیشن نہ ہو‘ اسلئے دوری ہے ضروری

,

   

نئی دہلی۔کرونا وائرس‘ کرونا فیملی کا نیا وائرس ہے۔ میڈیکل کی دنیامیں اس کوسی او وی ائی ڈی19نام دیاگیاہے۔ کیونکہ یہ نیاوائرس ہے‘ اس لئے اس کے بارے میں ڈاکٹروں کو بھی کم جانکاری ہے۔

سب سے پہلے چین میں دیکھا یہ وائرس ڈسمبر میں پھیلا۔ وہاں اس پر کئی اسٹڈی ہوئی ہے۔ اسٹڈی میں پایاگیا ہے کہ اس وائرس کا اثر باقی وائرس کے مقابلہ میں بڑا اوروزن میں بھاری ہے۔ یہ ثابت ہوگیا ہے کہ یہ وائرس ہوا میں سفر نہیں کرپاتا ہے۔

بڑی مقدار اوروزن کی وجہہ سے یہ ہوا میں آتے ہی گر جاتا ہے‘ اس لئے اس وائرس سے بچنے کے لئے ایک دوسرے سے ایک میٹر کی دوری بنائے رکھنا بتایاگیاہے۔

اس سے چھینکنے او رکھانسنے کی وجہہ سے نکلنے والے جراثیم سامنے والے تک نہیں پہنچیں گے۔ اس وائر س سے بچنے کے لئے لوگوں کو بھی ماسک کے استعمال سے زیادہ اپنے ہاتھ صا ف رکھنے کی نصیحت کی جارہی ہے

۔ائی ایم اے کے سابق صدر ڈاکٹر کے کے اگروال نے کہاکہ ابھی تک کہ اسٹڈی میں یہ صاف ہوا ہے کہ یہ عربین نہیں ہے۔

انہں و نے بتایا کہ جتنے بھی تیزی کے ساتھ پھیلنے والے وائرس ہیں اس میں کرونا کی شکل وصورت بڑی اور بھاری ہے۔

یہ جراثیم کے ذریعہ ہی ایک دوسرے میں پھیلتا ہے۔

چھینک کے بعد یہ وائرس زیادہ سے زیادہ ایک دو میٹر تک جاسکتا ہے۔ اس کے بعد یہ گرجاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر دوسرے وائر س سے مقابلہ کریں تو یہ تیزی سے پھیلتا ہے۔

اس سے بچاؤ کو لے کر لوگوں کو زیادہ حساسیت کے سونچنے کی ضرورت ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے رابطے میں نہ ائیں‘ اس لئے حکومت نے یہ فیصلہ لیاہے۔

اب عام لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سماجی دوری کو کامیاب بنائیں‘ تاکہ اس وبا ء کو روکا جاسکے