یونیورسٹی آف حیدرآباد کے اسٹوڈنٹ یونین انتخابات

   

بائیں بازو طلبہ تنظیموں کی کامیابی، مذہبی سیاست مسترد

حیدرآباد۔ 26 فروری (سیاست نیوز) حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی
اسٹوڈنٹ یونین انتخابات میں بائیں بازو طلبہ تنظیموں نے زبردست کامیابی حاصل کرتے ہوئے زعفرانی دائیں بازو طلبہ تنظیموں کو شکست فاش کردیا۔ گزشتہ چند دنوں سے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں انتخابی ماحول سے کشیدگی کا ماحول پایا جاتا تھا۔ گزشتہ روز طلبہ گروپس کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ بی بی سی کی ڈاکیومنٹری کی تشہیر کے بعد جس کا انعقاد بائیں بازو طلبہ تنظیموں کی جانب سے کیا گیا تھا، ماحول کشیدگی کا رخ اختیار کرگیا تھا۔ اس دوران ہوئے انتخابات میں ایس ایف آئی اور اے ایس اے پیانل تقریباً تمام زمروں میں زبردست اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کرلی۔ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں بائیں بازو طلبہ تنظیموں کی کامیابی نے زعفرانی ذہنیت اور اجارہ داری کی کوششوں کو مسترد کردیا ہے۔ تعلیم کو خانگیانے اور تعلیمی ادارہ میں مذہبی سیاست کو یونیورسٹی طلبہ نے مسترد کردیا۔ جدید تعلیمی پالیسی اور تعلیم کو زعفرانی نظام میں ڈھالنے کی کوششوں کو بھی ناکام بناتے ہوئے پورے ملک کے لئے زبردست پیغام دیا ہے۔ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کے انتخابات میں ایس ایف آئی کی یہ مسلسل دوسری کامیابی ہے۔ صدر کے لئے ایس ایف آئی نے کل 1838 ووٹ حاصل کئے جبکہ اے بی وی پی اور اس کی محاذ تنظیموں نے 1250 نائب صدر کے لئے اے ایس اے ایس ایف آئی پیانل نے 1861 ووٹ حاصل کئے جبکہ اے بی وی پی گروپ نے 1163 جنرل سکریٹری کے لئے 2076، ایس ایف آئی پیانل نے اور 1185، اے بی وی پی پیانل نے ووٹ حاصل کئے۔ اسپورٹس سکریٹری کے لئے ایس ایف آئی پیانل کو 1544، اے بی وی پی پیانل کو1377، جوائنٹ سکریٹری کے لیس ایف آئی چیانل نے 1578 اور اے بی وی پی سے 1011 ووٹ حاصل کئے۔ کلچرل سکریٹری کے لئے ایس ایف آئی نے 1789 اور اے بی وی پی نے 1318 ووٹ حاصل کئے اس کے علاوہ اینٹی گریٹیڈ، کیاسٹس اور ریسرچ زمروں میں بھی اے بی وی پی کو شکست فاش ہونا پڑا۔ ایس ایف آئی پیانل نے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین الیکشن میں دوسری مرتبہ اپنی شاندار کامیابی کو درج کیا۔ ع