سی سی اے مخالف کے ملزمین کے پوسٹرس نکال دینے الہ آباد ہائی کورٹ کا حکم

,

   

الٰہ آباد ۔ 9 مارچ ۔(سیاست ڈاٹ کام)الٰہ آباد ہائیکورٹ نے لکھنو انتظامیہ کو مخالف شہریت ترمیمی قانون کے ملزمین کے پوسٹرس ہٹانے کا حکم دیا ہے ۔ چیف جسٹس گویند ماتھر اور جسٹس رمیش سنگھ پر مشتمل بنچ نے اُترپردیش حکومت سے کہا کہ قانونی اتھاریٹی کی بغیر اجازت ایسے پوسٹرس چسپاں نہ کرے ۔ عدالت نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور لکھنو پولیس کمشنر کو 16 مارچ یا اس سے قبل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ریاستی حکومت کی کارروائی عوامی مفاد کا مسئلہ ہے لیکن یہ عوام کے نجی معاملہ میں مداخلت بھی ہے اور یہ دستور کی دفعہ 21 کی خلاف ورزی ہے ۔

لہذا عدالت نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور لکھنو کے پولیس کمشنر کو سڑک کے کنارے لگائے گئے پوسٹرس ہٹانے کی ہدایت دی جس پر انفرادی ڈیٹا تحریر کیا گیا ہے ۔ عدالت نے مزید کہاکہ ان احکامات کی تعمیل پر مشتمل اطمینان بخش رپورٹ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی جانب سے رجسٹرار آف دی کورٹ کو 16 مارچ 2020 ء یا اس سے قبل پیش کرنے کی بھی ہدایت دی ۔ رپورٹ کی وصولی کے بعد اس پٹیشن کی کارروائی کو بند کیا جائے گا ۔ عدالت نے 7 مارچ کو ازخود کارروئی کرتے ہوئے مخالف سی اے اے احتجاجیوں کے ان کی شخصی تفصیلات کے ساتھ پوسٹرس لگانے کے اقدام کو انتہائی غیرمنصفانہ قرار دیا تھا اور کہا کہ یہ شخصی آزادی پر حملہ کے مترادف ہے ۔

اُترپردیش حکومت کی جانب سے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے سڑک کے کنارے جو پوسٹرس لگائے گئے اس پر ان کی تصاویر نام اور پتہ تحریر ہے ۔ ان پر شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج میں حصہ لینے اور توڑ پھوڑ کرنے کا الزام ہے ۔

اُترپردیش چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت پر جمعرات کی رات لکھنو کے بڑے چوراہوں پر یہ پوسٹرس لگائے گئے تھے ۔ لکھنو میں تقریباً 50 ایسے افراد کی پولیس کی جانب سے نشاندہی کی گئی تھی اور ان کو نوٹس بھی جاری کی گئی ہے ۔