پارٹی صدر ملکارجن کھرگے کی برہمی ، مانک راؤ ٹھاکرے کو قائدین پر کنٹرول کی ہدایت
حیدرآباد۔17۔اپریل (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی مسلسل شکست کے باوجود سدھار کے لئے تیار دکھائی نہیں دیتی۔ گروہ بندیاں اور آپسی اختلافات کے بغیر کانگریس قائدین کی سیاسی سرگرمیاں مکمل نہیں ہوسکتیں۔ کانگریس پارٹی نے علحدہ تلنگانہ تشکیل دیا، باوجود اس کے آپسی اختلافات کے نتیجہ میں نئی ریاست کا اقتدار بی آر ایس کے ہاتھ میں چلا گیا۔ 2014 اور پھر 2018 ء میں کانگریس قائدین کی چیف منسٹر کے عہدہ کیلئے آپسی رسہ کشی نے پارٹی کو شکست سے دوچار کردیا ۔ اب جبکہ تلنگانہ میں عوام بی آر ایس کے متبادل کے طور پر کانگریس کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن کانگریس قائدین میں اتحاد کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ صدر کانگریس ملکارجن کھرگے کی موجودگی میں پارٹی قائدین کے اختلافات منظر عام پر آگئے اور الیکشن سے 8 ماہ قبل چیف منسٹر کے عہدہ کی دعویداری شروع کردی گئی۔ منچریال میں گزشتہ دنوں جئے بھارت ستیہ گرہ جلسہ عام میں صدر کانگریس ملکارجن کھرگے نے شرکت کی اور انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ الیکشن کے 8 ماہ قبل ہی چیف منسٹر کے عہدہ کے دعویدار پیدا ہوچکے ہیں۔ ریونت ریڈی کے حامیوں نے ’ریونت سی ایم‘ کا نعرہ لگایا جس کے جواب میں سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا کے حامیوں نے ’بھٹی سی ایم‘ کے نعرے لگائے گئے۔ ملکارجن کھرگے ڈائس پر موجود تھے اور انہوں نے بے چینی کا اظہار کرتے ہوئے قائدین کو اشارہ کیا کہ وہ نعرہ بازی کو فوری روک دیں ۔ واضح رہے کہ 2014 ء اور 2018 ء چناؤ کی انتخابی مہم کے دوران ہی سینئر قائدین نے خود کو چیف منسٹر کے عہدہ کا دعویدار قرار دیا جس کے نتیجہ میں عوام نے کانگریس کو مسترد کردیا تھا ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق جلسہ عام کے بعد گیسٹ ہاؤز میں ملاقات کے دوران ملکارجن کھرگے نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تلنگانہ انچارج مانک راؤ ٹھاکرے کو پابند کیا کہ قائدین پر کنٹرول کریں۔ ملکارجن کھرگے کو اس بات پر ناراضگی تھی کہ ان کی موجودگی میں چیف منسٹر کے نعرے لگائے گئے اور ان کی تقریر کے وقت سامعین کی کثیر تعداد نے میدان چھوڑ دیا تھا۔ خالی نشستوں سے ملکارجن کھرگے کو خطاب کرنا پڑا۔ کھرگے نے یہاں تک کہہ دیا کہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کو ان کے دورہ اور خصوصی ہیلی کاپٹر کے انتظامات پر 20 تا 25 لاکھ کا خرچ آیا ہے ، ایسے میں جلسہ عام میں بدنظمی افسوسناک ہے۔ ریونت ریڈی کی تقریر ملکارجن کھرگے سے قبل کرائی گئی اور تقریر کے فوری بعد لوگ اٹھ کر جانے لگے۔ قائدین نے عوام کو روکنے کی کوشش کی لیکن ملکارجن کھرگے کی تقریر کے اختتام تک میدان تقریباً خالی ہوچکا تھا۔ ذرائع کے مطابق کھرگے نے ریمارک کیا کہ اگر تلنگانہ کے قائدین نہیں سدھریں گے تو اقتدار پھر ایک بار کے سی آر کو چلا جائے گا۔ر