الیکشن کمیشن بیک فٹ پر
نئی دہلی ۔13؍اکتوبر ( ایجنسیز )الیکشن کمیشن کو ملک میں منصفانہ انتخاب کرانے والا سب سے بڑا آئینی ادارہ مانا جاتا ہے لیکن جب ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے، حذف کرنے اور اعتراضات درج کرانے کے قواعد پر سوالات اٹھنے لگے تو کمیشن کے فیصلے بھی بحث کا موضوع بن جاتے ہیں۔ مغربی بنگال سے لیکر دہلی تک ایس آئی آر اور دیگر کئی معاملات پر تنازعہ کے درمیان الیکشن کمیشن کو اپنے کچھ فیصلوں میں تبدیلی اور راحت دینے کی ضرورت پڑی ہے۔گزشتہ تقریباً 30 دنوں میں سامنے آئے مختلف واقعات نے ایک اہم سوال کھڑا کیا ہے کہ کیا کمیشن نے زمینی مشکلات اور اٹھنے والے سوالات کو دیکھتے ہوئے اپنے قدم پیچھے کھینچے ہیں؟ کہیں چھوٹے ہوئے ووٹرس کو دوبارہ موقع دیا گیا تو کہیں دعوے اور اعتراضات درج کرانے کے معاملے میں راحت کی بات سامنے آئی۔ ان تبدیلیوں کو کمیشن کی حکمت عملی میں نرمی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔مغربی بنگال میں ایس آئی کے دوران ووٹر لسٹ میں نام شامل ہونے سے رہ جانے والے لوگوں کے نام جوڑنے کا سوال اہم بن گیا۔ فارم-6 کا استعمال ووٹر لسٹ میں نیا نام درج کرانے کیلئے کیا جاتا ہے۔ ایسے میں جن اہل ووٹرس کے نام فہرست میں شامل نہیں ہو پائے، ان کے لیے دوبارہ درخواست دینے کا راستہ کھلنا بڑی راحت مانا گیا۔ دہلی میں ایس آئی آر عمل کے دوران سامنے آئی 33 لاکھ خامیوں میں سے تقریباً 20 لاکھ معاملات نمٹا دیے گئے ہیں۔ باقی معاملات کو حل کرنے کیلئے بھی مہم جاری ہے۔ فارم-6 کو لے کر تنازعہ اس وقت بڑھ گیا جب ایس آئی آر کے دوران آن لائن درخواست کے ساتھ ایک اضافی اعلانیہ فارم یعنی ڈیکلریشن فارم جوڑ دیا گیا۔5 اکتوبر کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اس نے فارم-6 کی ترمیم شدہ شکل کو منظوری نہیں دی تھی۔ اس کے بعد کمیشن نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اصل فارم-6 میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی بلکہ ایس آئی آر کے لیے اضافی اعلانیہ فارم جوڑا گیا تھا۔ تنازعہ کے درمیان اس اضافی اعلانیہ فارم کو ان ریاستوں میں آن لائن پورٹل سے ہٹا دیا گیا جہاں ایس آئی آر کا عمل مکمل ہو چکا تھا۔فارم-7 کا استعمال ووٹر لسٹ میں کسی نام پر اعتراض درج کرانے یا نام حذف کرنے کی درخواست دینے کے لیے کیا جاتا ہے۔ پہلے اس کی تعداد پر کوئی واضح حد مقرر نہیں تھی اب کمیشن نے اس پر حد مقرر کر دی ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد ایک ہی شخص کی جانب سے بڑی تعداد میں درخواستیں دے کر ووٹرس کے نام حذف کرانے کی کوششوں پر روک لگانا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے دوران نام یا ریکارڈ میں خامیوں کی وجہ سے نوٹس پانے والے ووٹرس کیلئے عمل کو آسان بنانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔