مینسک : 19 اپریل ( یو این آئی ) بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے امریکا کی خارجہ پالیسی اور عالمی کردار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ ایران کا مقابلہ نہیں کر سکا تو اسے چین جیسی بڑی طاقت سے الجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔روسی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ امریکہ اتنا طاقتور نہیں جتنا اسے سمجھا جاتا تھا۔ ان کے مطابق اگر امریکہ ایران کے خلاف کامیاب نہیں ہو سکا تو وہ چین جیسے مضبوط ملک کا سامنا بھی نہیں کر پائے گا۔بیلاروسی صدر نے مزید کہا کہ امریکہ کے اصل مفادات تیل اور گیس کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا ہیں، اور وہ ان وسائل کے حصول کے لیے مختلف خطوں میں مداخلت کرتا رہا ہے۔اپنے خلاف عائد ’آمر‘ ہونے کے امریکی الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے لوکاشینکو نے کہا کہ اصل آمریت تو کیوبا، وینزویلا اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی پالیسیوں میں نظر آتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ خود کو جمہوریت کا علمبردار کہتا ہے، مگر وہاں نہ حقیقی جمہوریت موجود ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کا مکمل احترام کیا جاتا ہے۔انہوں نے مغربی ممالک کے انسانی حقوق کے دعووں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اسرائیل کے کہنے پر امریکہ نے ایک خودمختار ملک میں اسکول پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق لوکاشینکو کا یہ بیان عالمی سیاست میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلے کی عکاسی کرتا ہے، جہاں امریکہ، چین اور دیگر ممالک کے درمیان تعلقات مسلسل تناؤ کا شکار ہیں۔