بیجنگ : چین نے امریکہ کے، تائیوان کے ہاتھ، تقریباً 2 ارب ڈالر کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹم اور راڈار آلات کی فروخت کی منظوری دینے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔چین وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ یہ فروخت، ملک کی خودمختاری و سلامتی کے لئے نقصان دہ ہے۔ یہ منظوری “ون چائنہ” پالیسی اور ماضی میں کروائی گئی یقین دہانیوں کی خلاف ورزی ہے۔بیان میںکہا گیا ہے کہ تائیوان کے ہاتھ اسلحے کی فروخت علیحدگی پسند طاقتوں کو غلط پیغام دے رہی ہے۔چین نے امریکہ سے اسلحے کی فروخت روکنے کا مطالبہ کیا اور متعلقہ امریکی دفاعی صنعتی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔تائیوان نے اس اسلحے کی فروخت کا خیرمقدم کیا اور کہا ہے کہ خاص طور پر NASAMS سسٹم ہماری فضائی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرے گا۔واضح رہے کہ امریکہ وزارتِ خارجہ نے کل جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ “تائیوان کے ہاتھ ، زمین سے فضاء میں مار کرنے والے قومی میزائل سسٹم (NASAMS) اور AN/TPS-77 اور AN/TPS-78 راڈار سسٹموں کی فروخت کی منظوری دے دی گئی ہے۔بیان میں کہا گیا تھا کہ میزائلوں کی قیمت 1 ارب 16 کروڑ ڈالر اور راڈار سسٹموں کی قیمت 82 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ہے۔بیجنگ انتظامیہ، اس سے پہلے بھی تائیوان کو اسلحے کی فروخت کرنے کی وجہ سے، کئی امریکی دفاعی صنعتی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر چکی ہے۔