واشنگٹن: امریکہ کے دو تہائی ووٹرز کا خیال ہے کہ امریکہ میں جمہوریت خطرے میں ہے لیکن اس کا ذمہ دار کون ہے، اس بارے میں امریکیوں کی رائے تقسیم ہے۔امریکی جمہوریت کے بارے میں یہ رائے امریکی جریدے نیو یارک ٹائمز اور Siena کالج کے اشتراک سے عوامی سروے میں سامنے آئی ہے۔ سروے سے پتہ چلا کہ نصف سے زائد امریکی ووٹرز سمجھتے ہیں کہ عام لوگوں کی نمائندگی کرنے میں امریکی حکومتوں کی کارکردگی بہت خراب رہی ہے، سیاسی منظر نامے میں بہت تفریق ہے اور دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر بالکل اعتماد نہیں کرتیں۔تاہم ری پبلکنز اور ڈیموکریٹز، دونوں کے ووٹرز کا اس بات پر اتفاق سامنے آیا کہ ملک میں کرپشن، ایک ناسور ہے، 62 فیصد کا کہنا ہے کہ جو بھی حکومت آتی ہے وہ صرف اپنے اور اشرافیہ بہ الفاظ دیگر Creamy Layer کے لیے کام کرتی ہے، 58 فیصد ووٹرز کی رائے میں ملک کے مالی اور سیاسی نظام کو بڑی تبدیلی یا مکمل تبدیلی کی ضرورت ہے۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے ووٹرز اور آزاد ووٹرز کی تقریباً 80 فیصد تعداد کا کہنا ہے کہ 5 نومبر کے صدارتی انتخابات کے نتائج باکل ٹھیک ہوں گے، حالانکہ ڈونالڈ ٹرمپ 2020 کے انتخابی نتائج پر مسلسل سوال اْٹھا رہے ہیں۔اس سروے میں میڈیا کے حوالے سے پریشان کن اشارے ملے، صرف 21 فیصد ووٹرز نے کہا کہ اصل دھارے والے میڈیا اور سوشل میڈیا جمہوریت کے لیے اچھے ہیں جبکہ 51 سے 55 فیصد نے انہیں برا کہا۔ اس سروے سے ایک دن پہلے شائع ہونے والی قومی رائے شماری میں پتہ چلا کہ ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیریس اور ری پبلکن امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ دونوں کی مقبولیت 48 فیصد ہے۔