امریکی جارحیت کے نتیجہ میں خطے میں کشیدگی میں اضافہ کا امکان:تجزیہ نگار
واشنگٹن۔21؍اپریل ( ایجنسیز) امریکی فوج نے انڈو پیسفک کمانڈ کے دائرہ اختیار میں ایک بڑی سمندری کارروائی کے دوران پابندیوں کے شکار آئل ٹینکر ایم ٹی ٹیفانی کو قبضے میں لے لیا ہے۔پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ کارروائی کھلے سمندر میں کی گئی اور اس دوران کسی قسم کی مزاحمت پیش نہیں آئی۔ امریکی افواج نے جہاز کو مکمل کنٹرول میں لے کر اسے اپنی نگرانی میں لے لیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج ایسے سمندری آپریشنز جاری رکھے گی تاکہ ان نیٹ ورکس کو روکا جا سکے جن کے بارے میں واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ وہ ایران کو مختلف طریقوں سے معاونت فراہم کرتے ہیں۔ بین الاقوامی سمندر کسی بھی ایسے جہاز کے لیے محفوظ مقام نہیں جو پابندیوں کی زد میں ہو اور ایسے عناصر کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔امریکی حکام کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں عالمی قوانین اور سمندری سلامتی کے اصولوں کے تحت کی جاتی ہیں جبکہ ان کا مقصد مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام اور بین الاقوامی پابندیوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہیکہ امریکہ عالمی دہشت گرد بنا ہوا ہے۔ امریکہ خود کچھ بھی کرے وہ جائز ہے لیکن کوئی دوسرا ملک کچھ کرنا چاہے تو وہ دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے۔ امریکہ کی کھلی جارحیت کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے امکان ہیں۔ امریکہ نے جنگ بندی کے باوجود پہلے ایران کے جہاز کو اغوا کیا اور اب ایک اور جہاز کو اغوا کرلیا ہے، عالمی اداروں نے اگر امریکہ اور اسرائیل کو نہ روکا تو عالمی امن کے لیے بہت بڑا خطرہ ہوگا۔