اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی کوشش سنگین طرز حکمرانی : ہریش راؤ

   

بی آر ایس سوشل میڈیا کنوینر ایم کرشنک کی گرفتاری انتقامی سیاست اور جمہوری نظام پر سوالیہ نشان ،مقدمات واپس لینے کا مطالبہ
سنگاریڈی ۔28 اپریل ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ریاستی سیاست کا درجہ حرارت اس وقت بڑھ گیا جب بی آر ایس سوشل میڈیا کنوینر منّے کرشنک کی گرفتاری کے معاملے پر سابق وزیر اور پارٹی کے ڈپٹی فلور لیڈر ہریش راؤ نے کانگریس حکومت کے خلاف محاذ کھول دیا۔ کندی سنٹرل جیل میں کرشنک اور دیگر کارکنوں سے ملاقات کے بعد ہریش راؤ نے نہ صرف اس کارروائی کو کھلی انتقامی سیاست قرار دیا بلکہ حکومت کے طرزِ حکمرانی پر سنگین سوالات بھی اُٹھائے۔ ہریش راؤ کے مطابق، اصل مجرموں کو نظر انداز کرتے ہوئے شکایت کنندہ کو ہی گرفتار کرنا انصاف کے بنیادی اُصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرشنک نے فیک پوسٹس کے خلاف ثبوتوں کے ساتھ پولیس سے رجوع کیا لیکن کارروائی اُلٹا اُنہی کے خلاف کی گئی جو جمہوری نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت اپنی ناکامیوں، بدعنوانی اور عوامی مسائل پر بڑھتی ہوئی تنقید کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ ہریش راؤ نے کہاکہ غیر قانونی مقدمات، ایس آئی ٹی تحقیقات اور دیگر ادارہ جاتی دباؤ کے ذریعے اپوزیشن کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کسی بھی جمہوری معاشرہ کے لیے تشویشناک ہے۔ ہریش راؤ نے کچھ آئی پی ایس افسران پر بھی سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ مبینہ طور پر نجی ہیکرس کی مدد سے فون ٹیپنگ اور نگرانی جیسے غیر قانونی اقدامات میں ملوث ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر ان الزامات کی جانچ نہ کی گئی تو مستقبل میں اس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے اور اقتدار کی تبدیلی کی صورت میں ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ کسانوں کے مسائل کو اُجاگر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ فصل کی خریداری مراکز پر کسان کئی دنوں سے انتظار کر رہے ہیں لیکن انتظامیہ کی جانب سے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا جا رہا ہے۔ مکئی اور دھان کی خریداری میں نئی شرائط اور تاخیر کو انہوں نے کسان مخالف پالیسی قرار دیتے ہوئے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔ خریف سیزن کے باریک چاول پر بونس کے مسئلہ پر حکومت سے واضح مؤقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ غیر یقینی صورتحال کسانوں میں بے چینی پیدا کر رہی ہے۔ ہریش راؤ نے زور دے کر کہا کہ کرشنک کے خلاف درج مقدمات فوری طور پر واپس لیے جائیں بصورت دیگر بی آر ایس احتجاج کا راستہ اختیار کرے گی۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ انتقامی سیاست سے گریز کرتے ہوئے عوامی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز کرے۔ کیونکہ جمہوری نظام میں اختلافِ رائے کو دبانا مسائل کا حل نہیں بلکہ ان میں مزید اضافہ کا سبب بنتا ہے۔