بہار میں ترقی کا پہیہ جام، بدعنوانی اور جرائم کا راج قائم

   

ریاست میں بدعنوانی اب انفرادی نہیں بلکہ سرکاری سرپرستی میں ہورہی ہے، آر جے ڈی قائدین کی پریس کانفرنس

پٹنہ ،9 اپریل ( یو این آئی) راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے مرکزی ترجمان شکتی سنگھ یادو نے بہار حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں اب ترقی کا پہیہ تھم چکا ہے اور اس کی جگہ جرم اور کرپشن نے لے لی ہے ۔ پٹنہ میں منعقدہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ بہار میں اس وقت “جرم اور بدعنوانی کی جوڑی” ہٹ ہو چکی ہے جسے حکومت کے بااثر افراد کی سرپرستی حاصل ہے ۔شکتی سنگھ یادو نے ایک معطل ڈی ایس پی، گوتم کمار کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کی نیت پر سوالات اٹھائے ۔ ان کے مطابق 31 مارچ 2026 کو معطل کیے گئے ڈی ایس پی گوتم کمار کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ یکم اپریل کو پولیس ہیڈ کوارٹر پٹنہ میں رپورٹ کریں، لیکن اس کے برعکس انہیں 7 اپریل کو بیتیا ڈی آئی جی آفس سے منسلک کر دیا گیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ مذکورہ افسر اسی خطے میں کرپشن اور لوٹ مار کے ذمہ دار سمجھے جاتے تھے ، اس کے باوجود انہیں دوبارہ اسی علاقے میں تعینات کرنا حکومت کے دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے ۔آر جے ڈی رہنما نے الزام لگایا کہ ڈی ایس پی پر کروڑوں روپے کے لین دین کے سنگین الزامات ہیں، لیکن اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے وہ کارروائی سے بچے ہوئے ہیں۔شکتی سنگھ یادو نے کہا کہ بہار میں بدعنوانی اب انفرادی نہیں بلکہ سرکاری سرپرستی میں ہو رہی ہے ۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک متنازع افسر کو پٹنہ ہیڈ کوارٹر بلانے کے بجائے بیتیا میں کیوں رکھا گیا؟ ان کے بقول، یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ اقتدار میں بیٹھے بڑے لیڈر کرپٹ افسران کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔اس موقع پر صوبائی ترجمان اعجاز احمد اور ارون کمار یادو بھی موجود تھے ۔ آر جے ڈی نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنی پوزیشن واضح کرے اور ایسے افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے ۔ راشٹریہ جنتا دل کے ترجمان شکتی سنگھ یادو نے بہار کی موجودہ حکومت پر کڑی تنقید جاری رکھتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست میں بدعنوانی اور غیر قانونی شراب کی ایک “متوازی معیشت” چل رہی ہے ۔ انہوں نے وزیراعلیٰ نتیش کمار کے سیاسی مستقبل اور بی جے پی کے مبینہ منصوبوں کے حوالے سے بھی بڑے دعوے کیے ۔شکتی سنگھ یادو نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ I/K
انہوں نے کہا کہ شراب سے متعلق 10 لاکھ مقدمات کا درج ہونا اور تقریباً 16 لاکھ لوگوں کی گرفتاریاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پالیسی ناکام ہو چکی ہے ۔ سال 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق، ریاست میں 2 لاکھ 73 ہزار لیٹر سے زائد غیر قانونی شراب پکڑی جا چکی ہے ، جو ایک منظم مجرمانہ معیشت کی نشاندہی کرتی ہے ۔