پٹنہ، 12 اپریل (یو این آئی) بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ایگزیکٹو قومی صدر تیجسوی پرساد یادو نے اتوار کو کہا کہ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے ) حکومت کے دورِ اقتدار میں بہار کے تعلیمی نظام میں غیر اخلاقیات اور بدعنوانی کا غلبہ ہے ۔تیجسوییادو نے آج ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے باشندوں کو یہ جان کر سخت حیرت ہوگی کہ بہار کے 76000 سے زیادہ پرائمری اور مڈل اسکولوں میں ایک بھی موسیقی کا استاد نہیں ہے ، لیکن بدعنوان این ڈی اے حکومت نے موسیقی کے آلات کی خریداری پر ہی 158.44 کروڑ روپے خرچ کر دیے ہیں۔آر جے ڈی لیڈر نے کہا کہ حکومت نے بلا ضرورت اساتذہ کے بغیر اسکولوں کے لیے موسیقی کے آلات جیسے ستار، سرود، سارنگی، وائلن، بانسری، شہنائی، ہارمونیم، شنکھ، طبلہ، ڈھولک، ڈمرو اور گھنٹہ وغیرہ کی خریداری پر 158.44 کروڑ روپے خرچ کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ نہ تو اسکولوں کے اساتذہ نے ان آلات کا مطالبہ کیا تھا اور نہ ہی انہیں ان کے استعمال کی کوئی تربیت دی گئی ہے ۔ واضح ہے کہ اسکولوں میں موسیقی کے اساتذہ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے یہ آلات بجانے کے لیے نہیں بلکہ بدعنوانی کے تحت محض سجانے کے لیے خریدے گئے ہیں۔