سیفٹی کلبس کے قیام کی تجویز، وزیر تعلیم اور ڈائرکٹر جنرل پولیس کی اجلاس میں شرکت
حیدرآباد ۔23 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے تعلیمی اداروں میں منشیات کے چلن کو روکنے اور طلبہ کو تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات کئے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں ریاگنگ کے واقعات کی روک تھام کو حکومت نے ایک چیلنج کے طورپر قبول کیا ہے۔ اسٹیٹ کونسل آف ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے تعلیمی اداروں میں طلبہ کے تحفظ کے موضوع پر اجلاس منعقد کیا گیا تھا۔ کونسل فار ہائیر ایجوکیشن کے ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے تعلیمی اداروں کو محفوظ مراکز کے طورپر تیار کرنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ صدرنشین کونسل فار ہائیر ایجوکیشن پروفیسر آر لمباردری نے بتایا کہ 1997 ء میں ریاگنگ کے خلاف قانون سازی کی گئی لیکن تعلیمی اداروں میں ابھی بھی ریاگنگ کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاگنگ کے نام پر طلبہ کو جن مسائل کا سامنا ہے ، ان تمام کا احاطہ اس قانون کے تحت ممکن نہیں ہیں، لہذا اس سلسلہ میں قانون میں ترمیم اور نئے رہنمایانہ خطوط کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرگس کا استعمال موجودہ وقت کا اہم چیلنج ہے اور یہ لعنت شہری علاقوں سے نکل کر دیہی علاقوں تک پہنچ چکی ہے ۔ وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی نے کہا کہ محکمہ تعلیم اور پولیس عہدیداروں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں اینٹی ریاگنگ ایکٹ میں ترمیم کیلئے رہنمایانہ خطوط طئے کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیز کو چاہئے کہ وہ اسٹوڈنٹس کونسلرس کا تقرر کریں اور سی سی ٹی وی کیمرہ کے ذریعہ طلبہ کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس مہیندر ریڈی ، سکریٹری محکمہ تعلیم وی کرونا اور کمشنر کالجیٹ ایجوکیشن نوین متل کے علاوہ مختلف یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس کے اجلاس میں شرکت کی ۔ حکومت سیفٹی کلبس کے قیام کی تجویز رکھتی ہے جس کے لئے ہیلپ لائین نمبرس جاری کئے جائیں گے۔ ریاگنگ اور منشیات کے استعمال کے سلسلہ میں ان نمبرات پر شکایت کی جاسکتی ہے۔ ماہرین نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں کونسلنگ سیشن رکھے جائیں جس میں مختلف برائیوں کے خلاف طلبہ میں شعور بیدار کیا جائے۔ ر