سی ای او وقف بورڈ سے ملاقات کے لیے پہونچنے والے وفد کے ساتھ بدسلوکی
حیدرآباد۔27۔اگسٹ(سیاست نیوز) جامعہ نظامیہ کے تحت موقوفہ جائیداد کے تحفظ کے سلسلہ میں چیف اکزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ جناب محمد اسداللہ سے ملاقات کے لئے حج ہاؤز پہنچنے والے وفدکے ساتھ ہونے والی بدتمیزی کے خلاف وفد نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سی ای او وقف بورڈ سے ملاقات سے روک دیا گیا اور یہ کہا گیا کہ سی ای او کی عوام سے ملاقات کے اوقات 3تا4بجے سہ پہر ہیں اور اس وقت ہی ان سے ملاقات ممکن ہوسکتی ہے۔ چیف اکزیکٹیو آفیسر جو کہ اس ہنگامہ آرائی کے دوران اپنے دفترمیں موجود نہیں تھے کی آمد کی اطلاع موصول ہوتے ہی وفد کے ذمہ دار حج ہاؤز کی زیریں منزل پر پہنچے لیکن ہنگامہ آرائی کی اطلاع کے ساتھ ہی سی اووقف بورڈ جو کہ حج ہاؤز پہنچے تھے واپس روانہ ہوگئے ۔ بتایاجاتا ہے کہ جامعہ نظامیہ کی جائیداد کے تحفظ کے معاملہ میں وقف بورڈ کے ذمہ داروں سے استفسار کرنے کے لئے پہنچنے والی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ذمہ داروں نے تحریری یادداشت حوالہ کی اور مطالبہ کیا کہ سروے نمبر 83/1 میں موجود موقوفہ اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں وقف بورڈ کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات سے انہیں واقف کروایا جائے ۔ جناب علیم خان فلکی ‘ جناب مجاہد ہاشمی ‘ جناب نعیم اللہ شریف‘ جناب عدنان قمر ‘ جناب ابرار حسین آزاد کے علاوہ دیگر افراد جو کہ جامعہ نظامیہ کی موقوفہ اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں چیف اکزیکٹیو آفیسر جناب محمد اسداللہ سے ملاقات کے لئے حج ہاؤز پہنچے تھے انہیں سیکیورٹی عملہ نے سی ای او کے دفتر کی راہداری میں رکنے سے باز رکھنے کے لئے وہاں سے چلے جانے کے لئے کہاجس پر وفد میں شامل افراد برہم ہوگئے اور کہا کہ سی ای او اگر آفیسر ہیں تب بھی وہ عوام کے کام کے لئے دفترمیں ہیں اسی لئے ان سے ملاقات کرنے والوں کو یا دفتر پہنچنے والوں کو روکنے کے لئے کسی بھی طرح کی سیکیوریٹی کا استعمال کرتے ہوئے ہراساں نہیں کیا جاسکتا۔ وفد میں شامل افراد نے سروے نمبر 83/1 رائے درگ پان مقطعہ کی اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس انتہائی قیمتی وقف اراضی کے تحفظ کے معاملہ میں وقف بورڈ کی خاموشی اور ہراج کے باوجود عدالت سے رجوع ہونے سے گریز ناقابل فہم بلکہ حکومت کے دباؤ میں خاموشی اختیارکرنے کے مترادف ہے۔ بتایاجاتاہے کہ ریاستی وقف بورڈ پر حکومت تلنگانہ کے محکمہ اقلیتی بہبود اور چیف منسٹر کے دفتر کے راست دباؤ کے نتیجہ میں تلنگانہ وقف بورڈ کے اجلاس کے انعقاد سے گریز کرتے ہوئے بورڈ کے عہدیداروں کو دیگر متعلقہ محکمہ جات سے مراسلت کرتے ہوئے دستاویزات جمع کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں وقف بورڈ کے ذمہ دارعہدیدار بھی ’جامعہ نظامیہ ‘ کے تحت موجود اس انتہائی قیمتی بلکہ شہر حیدرآباد کی سب سے قیمتی اراضی کے ہراج کے باوجود ’ہاتھ پر ہاتھ‘ دہرے بیٹھے ہوئے ہیں اور کسی کو بھی جواب دینے سے گریز کر رہے ہیں۔3