جامعہ نظامیہ کی موقوفہ اراضی کے تحفظ کیلئے بی آر ایس اقلیتی قائدین کی مہم

   

مسلم تنظیموں اور ادارو ںکے ذمہ داروں سے ملاقات، سرکردہ قائدین پر دباؤ
حیدرآباد۔22۔اگسٹ(سیاست نیوز) بی آر ایس اقلیتی قائدین نے ’جامعہ نظامیہ ‘ کی موقوفہ اراضی کے حصول کے لئے باضابطہ عوامی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مختلف مسلم تنظیموں اور اداروں کے ذمہ داروں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔سابق ریاستی وزیر مسٹر ٹی ہریش راؤ کی جانب سے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے سروے نمبر 83/1 میں موجود اراضیات و جائیداد کے ہراج کو ملکیت کا فیصلہ ہونے تک موقوف کرنے کے مطالبہ کے باوجود تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کاپوریشن کی جانب سے گذشتہ یوم اراضی کے ہراج کے خلاف آج بی آر ایس اقلیتی قائدین جناب محمد عبدالحکیم‘ جناب اسحق امتیاز سابق صدرنشین تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن ‘ جناب نوید اقبال ‘ جناب بدرالدین‘ جناب جمو خان‘ جناب ایم اے معز‘ جناب معراج خان کے علاوہ دیگر نے امیرحلقہ جماعت اسلامی ہند (تلنگانہ ) جناب محمد اظہر الدین ‘ مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ ‘ امیر امارت ملت اسلامیہ ‘ جناب مشتاق ملک صدر تحریک مسلم شبان سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں ’جامعہ نظامیہ ‘ کی 510ایکڑ35 گنٹے اراضی کے تحفظ کے لئے شروع کی جانے والی مہم کا حصہ بننے کی اپیل کی۔ بی آر ایس قائدین نے بتایا کہ جامعہ نظامیہ کے تحت موجود موقوفہ اراضی کے معاملہ میں بی آر ایس نے جو موقف اختیار کیا ہے اس کے مطابق ملکیت کے تنازعہ کو حل کرنے تک مذکورہ اراضی پر کسی بھی طرح رجسٹریشن اور تیسرے فریق کو استحقاق فراہم نہیں کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے تمام ذمہ داران ملت اسلامیہ سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں اپنی جماعت کے موقف سے واقف کروایا او رکہا کہ تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے معاملہ میں ان کی پارٹی سنجیدہ ہے اس کے علاوہ ’جامعہ نظامیہ‘ کی اس موقوفہ اراضی کے معاملہ میں پارٹی قائدین کو واقف کرواتے ہوئے انہیں بنیادی صورتحال سے واقف کروایا گیا ہے ۔ ان قائدین نے اپنی ملاقاتوں کے دوران ملت اسلامیہ کی سربرآوردہ شخصیات سے خواہش کی کہ وہ رائے درگ کی اس انتہائی قیمتی اراضی کے متعلق کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے ’جامعہ نظامیہ‘ اور اس کی ملکیت کے تحفظ کے لئے شہریوں میں شعور اجاگر کریں تاکہ ملت اسلامیہ کے اثاثہ جات کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ بتایا جاتاہے کہ جماعت اسلامی ‘ امارت ملت اسلامیہ کے علاوہ تحریک مسلم شبان نے ’جامعہ نظامیہ ‘ کی اراضی کے تحفظ کے معاملہ میں ہر طرح کی جدوجہد اور کوشش میں مکمل تعاون کا تیقن دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی دینی درسگاہ کی جائیداد و ملکیت کے تحفظ کی ذمہ داری محض ادارہ یا درسگاہ کی نہیں ہوتی بلکہ امت مسلمہ کو معاملہ کی نزاکت ‘ وقت اور حالات کی بنیاد پر اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملت اسلامیہ کے اثاثہ جات کے تحفظ کے اقدامات کرنے چاہئے ۔ بی آر ایس اقلیتی قائدین نے بتایا کہ وہ آئندہ دنوں کے دوران مزید مسلم تنظیموں کے قائدین سے ملاقات اور ان سے مشاورت کے بعد اپنا لائحہ عمل تیار کرتے ہوئے عوامی مہم کے آغاز کے متعلق منصوبہ کا اعلان کریں گے۔ ان قائدین نے واضح کیا کہ ’جامعہ نظامیہ ‘ کی جائیداد کے تحفظ کے سلسلہ میں شروع کی جانے والی اس کوشش کا مقصد سیاسی مفادات کا حصول نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی جائیدادوں کو جس منظم انداز میں تباہ کیا جارہا ہے اسے منظر عام پر لاتے ہوئے رکاوٹ پیدا کرنا ہے ۔ ان قائدین نے واضح کیا کہ وہ اوقافی جائیدادو ں کے تحفظ کے معاملہ میں اپنی پارٹی کے سرکردہ قائدین پر بھی دباؤ کو یقینی بناتے ہوئے انہیں ان جائیدادوں کی اہمیت اور منشاء سے واقف کروارہے ہیں تاکہ جو لوگ وقف جائیدادوں کی اہمیت اور ان کے استعمال سے واقف نہیں ہیں انہیں بھی اس بات سے واقف کروایا جاسکے کہ یہ جائیدادیں مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے وقف کی گئی ہیں اور اس کا فائدہ ریاست کے مسلمانوں کو ہونا چاہئے ۔3