حیدرآباد۔12جولائی (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے عاجلانہ انتخابات کے چیالنج کو قبل از وقت انتخابات کے اشاروں سے تعبیر کیا جانے لگا ہے اورکہا جا رہاہے کہ ریاست میں انتخابات کیلئے جلد راہیں ہموار کرنے اقدامات کئے جائیں گے اور تلنگانہ اسمبلی کو تحلیل کردیا جائیگا۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کے سیاسی مشیروں اور صلاح کاروں نے انہیں بی جے پی کے کمزور موقف سے فائدہ اٹھانے اور ملک میں مہنگائی سے عوام میں ناراضگی سے واقف کرواتے ہوئے عوام کے درمیان پہنچنے کا مشورہ دیا لیکن چیف منسٹر کا کہنا ہے کہ اگر اسمبلی تحلیل کرتے ہوئے انتخابات کا سامنا کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے اسمبلی انتخابات کیلئے تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چندر شیکھر راؤ عاجلانہ انتخابات کیلئے آمادہ ہیں لیکن اگر مرکزی حکومت ریاست میں صدر راج کے ذریعہ وقت حاصل کرتی ہے تو اس کے منفی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ تلنگانہ میں فوری انتخابات کی صورت میں بی جے پی کو کوئی فائدہ نہ ہونے کے امکانات کے بعد کہا جا رہاہے کہ بی جے پی اپنی حکمت عملی تبدیل کرسکتی ہے اور انتخابات کو ٹالنے اگر اسمبلی تحلیل کی جاتی ہے تو انتخابات کو ٹالنے اقدامات کئے جاسکتے ہیں لیکن سیاسی مبصرین کا کہناہے کہ اگر مرکزی حکومت کی جانب سے ایسا کیا جاتا ہے تو تلنگانہ میں بی جے پی کو مزید نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے لیکن دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہاہے کہ اگر اس مدت کے دوران انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ یا سی بی آئی کی کاروائیوں میں تیزی لائی جاتی ہے تو تبدیل ہوسکتے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر قبل ازوقت انتخابات کے حق میں ہیں لیکن اسمبلی تحلیل کرنے کے بعد انتخابات کا اعلامیہ جاری نہ کئے جانے کے خدشات کا شکار ہیں اسی لئے وہ مرکز کو چیالنج کر رہے ہیں۔ تلنگانہ میں پہلی اسمبلی کی معیاد 4سال رہی اور اس کے بعد اسمبلی کو تحلیل کرنے کے اقدامات کئے گئے اور اس فیصلہ سے تلنگانہ راشٹر سمیتی کو کافی فائدہ حاصل ہوا لیکن ٹی آر ایس کی حکمت عملی سے اب تمام جماعتیں واقف ہوچکی ہیں اور وہ بھی انتخابات کیلئے تیار ہیں ۔ پردیش کانگریس کی جانب سے بھی ٹی آر ایس کو اسمبلی تحلیل کرنے کا چیالنج کیا جا رہا ہے اور بی جے پی بھی ٹی آر ایس کو چیالنج کر رہی ہے لیکن ماہرین کا کہناہے کہ چندر شیکھر راؤ قومی صورتحال اور بی جے پی کے خلاف عوامی ناراضگی کی بنیاد پر یہ فیصلہ نہیں کریں گے بلکہ وہ زمینی حقائق کا جائزہ لینے کے بعد قطعی فیصلہ کریں گے۔م