جموں و کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ، عمر عبداللہ نے مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کی قرارداد پیش کردی، ایوان نصف گھنٹے کیلئے ملتوی

   

سری نگر، 25 ستمبر (یو این آئی) جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو قانون ساز اسمبلی میں مرکز کے زیر انتظام خطے کو فوری طور پر مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کرنے والی قرارداد پیش کی، جس پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ارکان نے نیشنل کانفرنس کی 2000 کی خود مختاری سے متعلق قرارداد کے حوالہ دیے جانے پر احتجاج کیا۔وقفۂ سوالات کے بعد پیش کی گئی قرارداد میں حکومتِ ہند سے جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا کہ ایوان کا یہ مطالبہ پہلے منظور کی گئی قراردادوں کا تسلسل ہے ۔قرارداد میں کہا گیاکہ ”26 جون 2000 اور 6 نومبر 2024 کو اس ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ، ایوان حکومتِ ہند سے جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور اسے حکومتِ ہند کو بھیجا جائے ۔”عمر عبداللہ نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ مطالبہ ”مکمل ریاستی درجہ” بحال کرنے کا ہے اور واضح کیا کہ ان کی حکومت کسی محدود انتظام پر رضامند نہیں ہوگی۔عمر عبداللہ نے کہاکہ ”ہمیں آدھی یا چوتھائی ریاست نہیں، بلکہ مکمل ریاستی درجہ چاہیے ۔