واشنگٹن : 7اکٹوبر ( یو این آئی ) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے رائٹرز کو خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کو امریکہ کے مطالبات پورے کرنے اور دونوں ملکوں کے درمیان سات ماہ سے جاری جنگ ختم کرنے کے لیے اپنی یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں ’’نمایاں‘‘ کمی کرنا ہوگی۔تاہم واشنگٹن اب بھی اس بات سے پوری طرح آگاہ نہیں کہ تہران مذاکرات سے متعلق فیصلے کس طریقے سے کرتا ہے۔وینس ایک عرصے تک بیرون ملک جنگوں میں امریکی مداخلت کے شکوک کا اظہار کرتے رہے ہیں، تاہم اب انہوں نے تنازع ختم کرنے کے لیے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا اور جون میں ایک عبوری معاہدہ کرانے میں ثالثی کی جو جلد ہی ناکام ہوگیا۔اس جنگ نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور نومبر میں ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ری پبلکن جماعت کے لیے سیاسی بوجھ بن گئی ہے۔وینس نے پیر کو الاسکا میں انتخابی مہم کے بعد کہا کہ کسی بھی معاہدے کے لیے ایران کو اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت کم کرنا ہوگی، نہ کہ مستقبل میں جوہری صلاحیت کم کرنے کی محض یقین دہانی کرانا ہوگی۔انہوں نے کہا:اگر آپ جوہری ہتھیار نہیں چاہتے تو آپ کو 60 فیصد تک افزودہ ایندھن کی ضرورت کیوں ہے؟ اگر آپ جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کے عزم کا اظہار کرنا چاہتے ہیں تو زیادہ افزودہ ایندھن تیار ہی نہ کریں۔ یہ ایک انتہائی بنیادی معاملہ ہے۔وینس نے کہا:میرے خیال میں اگر وہ جوہری ہتھیار نہ بنانے کے اپنے عزم کا اظہار کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی افزودگی کی صلاحیت کے حوالے سے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے مقصد سے تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔