حکومت مخلوعہ جائیدادوں پر وائیٹ پیپر جاری کریں

   

جاب کیلنڈر جاری کرنے کے وعدے کو پورا کرنے ایم ایل سی داسوجو شراون کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 20 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے ایم ایل سی داسوجو شراون نے ریاست میں بڑھتی ہوئی شرح بیروزگاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سرکاری مخلوعہ جائیدادوں پر ایک وائیٹ پیپر جاری کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا اور جاب کیلنڈر کہاں ہیں استفسار کیا ۔ داسوجو شراون نے بے روزگاری کو ریاست کا سب سے بڑا سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ روزگار کی فراہمی محض کسی نوجوان کی ذاتی ضرورت نہیں ہے ۔ بلکہ یہ پورے نظام کی مضبوطی اور ریاست کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تلنگانہ میں تقریبا 40 لاکھ افراد بے روزگار ہیں اور خاص طور پر شہری علاقوں میں بے روزگاری کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ۔ حکومت ہر فرد کو سرکاری ملازمت فراہم نہیں کرسکتی لیکن خود روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور اسکل ڈیولپمنٹ پروگرامس کو فروغ دینا حکومت کی دستوری ذمہ داری ہے ۔ کانگریس نے انتخابات کے دوران بے روزگار نوجوانوں کو جھوٹے وعدوں کے ذریعہ سبز باغ دکھائے ۔ ’ابیہاہستم منشور ‘ اور ( حیدرآباد یوتھ ڈیکلریشن ) کے وعدے ابھی تک پورے نہیں کئے ۔ داسوجو شراون نے کہا کہ ریاست میں سرمایہ کاری نہیں ہورہی ہے ۔ فارما سیکٹر کی بدحالی سے تقریبا 50 ہزار ملازمتیں ختم ہوچکی ہیں جو انتہائی تشویش ناک صورتحال ہے ۔ ایم ایل سی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ایک وائیٹ پیپر جاری کریں جس میں محکمہ جاتی مخلوعہ جائیدادوں کی مکمل تفصیلات پیش کریں ساتھ ہی وعدے کے مطابق جاب کیلنڈر جاری کریں اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور خودکشیوں کے رجحان کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں ۔ شراون نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر اپنے حقوق کے لیے آواز بلندکریںاور جدوجہد کو جاری رکھیں ۔۔ 2/m/b