حیدرآباد میں پینے کے پانی کا بحران ، بارش کی قلت سے آبی ذخائر خالی

   

سنگور ڈیم میں ایمرجنسی پمپنگ کا آغاز ، دیگر ذخائر آب خطرے میں
حیدرآباد ۔ 2 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : گریٹر حیدرآباد میں پینے کے پانی کی فراہمی پر شدید خطرے کے بادل منڈلانے لگے ہیں ۔ ایک تشویشناک رپورٹ کے مطابق بارش کی قلت کے باعث شہر حیدراباد کو پانی سربراہ کرنے والے تمام بڑے آبی ذخائر میں پانی کی سطح تیزی سے گھٹ رہی ہے ۔ جو کہ گذشتہ سال کے اس وقت کے مقابلے میں بہت کم ہے ۔ اس سنگین صورتحال کے پیش نظر حیدرآباد واٹر بورڈ شہر میں پانی کی باقاعدہ سپلائی کو برقرار رکھنے کیلئے سخت جدوجہد کررہا ہے ۔ حیدرآباد کو پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے سنگور ذخیرہ آب میں پہلے ہی ایمرجنسی پمپنگ کا آغاز کیا جاچکا ہے ۔ جب کہ ناگرجنا ساگر میں بھی پانی کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہورہے ہیں ۔ اس وقت ناگرجنا ساگر میں پانی کی موجودہ سطح 514.40 فٹ تک پہونچ چکی ہے ۔ اگر یہ سطح 510 فٹ سے نیچے آتی ہے تو ایمرجنسی پمپنگ کے بغیر شہر کو دریائے کرشنا کا پانی سپلائی کرنا ناممکن ہوجائے گا ۔ واٹر بورڈ اب ساگر سے بھی ایمرجنسی پمپنگ کے انتظامات پر پوری توجہ دے رہا ہے ۔ شہر حیدراباد میں پانی کی مانگ اور سپلائی کے درمیان پہلے ہی بڑا فرق پایا جاتا ہے ۔ واٹر بورڈ اس وقت روزانہ 550 ( MGD ) پانی فراہم کررہا ہے ۔ جس میں کرشنا کا حصہ 270 ایم جی ڈی گوداوری کا حصہ 163 ایم جی ڈی سنگور اور مانجرا کا حصہ 90 ایم جی ڈی اور جڑواں آبی ذخائر عثمان ساگر ، حمایت ساگر کا حصہ 27 ایم جی ڈی ہے ۔ بورڈ کے تازہ ترین اندازوں کے مطابق سنگور کے ذخائر آب میں صرف 79 دن کا پانی باقی ہے ۔ یلم پلی کے ذخائر میں 130 دن کا پانی موجود ہے ۔ اگرچہ کہ عثمان ساگر اور حمایت ساگر میں پانی کا ذخیرہ کافی ہے ۔ لیکن یہ شہر کی جملہ سپلائی کا صرف 5 فیصد حصہ ہی پورا کرتے ہیں ۔ ناگر جناساگر کا پانی 510 فٹ سے نیچے آنے کی صورت میں پانی کو لازمی طور پر اکم پلی بیلنسنگ ریزروائر تک پمپ کر کے ہی شہر کو بھیجا جاسکے گا ۔ اس بحران کے درمیان واٹر بورڈ مستقبل میں اچھی بارشوں کی امید لگائے ہوئے ہیں اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے دیگر متبادل اقدامات پر کام کررہا ہے ۔۔ 2/m/b