الوال ۔ میڑچل راہداری کا چیف منسٹر ریونت ریڈی نے سنگ بنیاد رکھا ۔ عوامی مسائل کی یکسوئی کو ترجیح دینے دعویٰ
حیدرآباد 7 مارچ (سیاست نیوز) حکومت نے 10 سال سے جاری مرکز اور ریاست کے درمیان تنازعہ کو حل کرکے شمالی تلنگانہ کی ترقی کو یقینی بنانے نئی راہداری کی منظوری حاصل کی ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے آج سکندرآباد میں الوال ۔میڑچل راجیو راہداری کی سنگ بنیاد تقریب سے خطاب میں کہا کہ حکومت نے مرکز کے پاس 10 سال سے زیر التواء مسئلہ کو حل کرنے میں کامیابی حاصل کی اور وزیر اعظم نریندر مودی و وزیر دفاع راجناتھ سنگھ سے تبادلہ خیال کرکے محکمہ دفاع کی اراضی حاصل کی ہے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ اس راہداری کی تعمیر کے بعد میڑچل ‘ قطب اللہ پور‘ کریم نگر ‘ عادل آباد کا سفر آسان ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ مرکز سے الجھ کر سابقہ حکومت نے پراجکٹ کو پس پشت ڈال دیا تھا لیکن کانگریس نے اقتدار حاصل کرتے ہی اس مسئلہ کو مرکز کے آگے پیش کرکے محکمہ دفاع کی اراضیات کے حصول کو یقینی بنایا ۔ انہو ںنے کہا کہ وہ انتخابات میں سیاست اور انتخابات کے بعد ترقی اور بہتر حکمرانی کو یقینی بنانے کے قائل ہیں اسی لئے انتخابات کے بعد حکومت نے مرکز سے ملنے والے فائدہ کیلئے کوششوں کا آغاز کردیا جس کے نتیجہ میں آج راہداری کیلئے سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے۔ ریونت ریڈی نے بتایا کہ ریاستی حکومت سے شہر حیدرآباد کو عالمی معیار کے شہر کے طور پر ترقی دینے کا منصوبہ ہے اور اس کیلئے حکومت ہر ممکنہ کوشش کریگی۔ انہو ںنے بتایا کہ اس راہداری کی تکمیل کے ساتھ ہی میڑچل کو ترقی دینے منصوبہ تیار کیا جا رہاہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ گذشتہ حکومت سے چندرائن گٹہ کی دفاعی اراضی کی تخصیص اور لیز میں تاخیر کرکے مسئلہ کو الجھائے رکھاتھا لیکن ان کی حکومت نے اس مسئلہ کو بھی حل کرکے محکمہ دفاع سے خوشگوار تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وہ محض سیاست کی بجائے عوام کے مسائل اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ مستقبل میں بھی ہم مرکز سے تعاون کی امید کرتے ہیں اورخواہ مرکز میں کوئی حکومت ہو ریاستی حکومت کو سیاست سے بالاتر ہوکر ترقی کے اقدامات کو یقینی بنانا چاہئے اور ان کی حکومت نے وہی کیا ہے۔ چیف منسٹر نے سابق وزیر کے ٹی آر سے استفسار کیا کہ گذشتہ 10برسوں میں شہر کی ترقی کے منصوبہ کے تحت ان کی حکومت نے کیا کام انجام دیئے ہیں ! انہو ںنے بتایا کہ پیشرو حکومت میں شہر میں منشیات ‘ گانجہ اور پب کلچر کو فروغ دیا گیا جبکہ کانگریس نے اقتدا ر حاصل کرکے منشیات سے پاک سماج کی تشکیل کیلئے اقدامات کا آغاز کیا اور انسداد منشیات کیلئے کاروائیوں کا آغاز کردیا گیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بی آر ایس قائدین اس راہداری کیلئے ان کی جدوجہد کی کامیابی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ انہوں نے ٹوئیٹر پر پیغام ڈالنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کے ٹی آر کو مشورہ دیا کہ وہ مرکز سے وصول طلب تلنگانہ کے بقایاجات کی وصولی اور نئے ترقیاتی پراجکٹ کیلئے اندرا پارک پر ’مرن برت‘ کا آغاز کریں ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کیڈر کو وہ ہدایت دیں گے کہ سابق وزیر کی حفاظت کی جائے۔سکندرآبادتا آؤٹر رنگ روڈ براہ میڑچل یہ راہداری 18.10 کیلومیٹر طویل ہوگی اور اس میں 287 پلرس ہوں گے۔ انہو ںنے بتایا کہ اس پراجکٹ کا تخمینہ 2232کروڑ ہے اور پراجکٹ کیلئے جملہ 197.20 ایکڑ اراضی حاصل کی جائیگی جس میں 113.48ایکڑ دفاعی ہے جبکہ 83.72ایکڑ خانگی اراضی شامل ہے۔ تقریب میں اسپیکر اسمبلی مسٹر گڈم پرساد کمار‘ وزراء کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی ‘ پونم پربھاکر و مختلف محکمہ جات کے عہدیدار موجود تھے ۔ بعد ازاں چیف منسٹر ریڈی نے بنجارہ ہلزمیں ڈاکٹر بابو جگجیون رام بھون کا افتتاح انجام دیا ۔ تقریب میں وزراء ‘ اسپیکر اسمبلی ‘ مئیر حیدرآباد ‘ رکن اسمبلی خیریت آباد ڈی ناگیندر و کارپوریٹر مسز پی وجیہ ریڈی اور دیگر موجود تھے۔3