1000 سے زائد BLOs ڈیوٹی سے غائب، انتخابی عمل میں غفلت پر عوامی حلقوں میں ناراضگی
حیدرآباد ۔ 27 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ بھر میں ووٹر لسٹوں کی تصدیق کیلئے شروع کئے گئے خصوصی جامع سروے (SIR) کو تین دن مکمل ہونے کے باوجود دارالحکومت حیدرآباد اور ریاست کے دیگر اضلاع میں بھی انتظامات انتہائی ناقص اور مایوس کن نظر آرہے ہیں۔ گریٹر حیدرآباد کے تین اضلاع (حیدرآباد، رنگاریڈی اور میڑچل ملکاجگری) کے بشمول مختلف اضلاع کے BLOs روزانہ کے اہداف کو پورا کرنے میں شدید غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ جملہ 10 ہزار پولنگ اسٹیشنس میں تقریباً 30 فیصد بوتھ لیول آفیسرس کو تاحال (Enumeration Forms) موصول ہی نہیں ہوئے۔ حالات اس وقت مزید ابتر ہوگئے جب یہ انکشاف ہوا کہ ایک طرف جہاں BLOs کو اندراماں ساڑیاں تقسیم کرنے کی ڈیوٹی پر مامور کردیا گیا ہے وہیں دوسری طرف ہزاروں بی ایل اوز فیلڈ سے مکمل طور پر غائب ہیں۔ جب عوامی حلقوں اور ووٹرس کی جانب سے ان لاپتہ BLOs کو فون کیا گیا تو ان کا ایک ہی روایتی جواب سامنے آرہا ہے ہمیں ابھی تک فارمس ہی دستاب نہیں ہوئے تو ہم سروے کیلئے کیسے آئیں گے؟ بی ایل اوز کے اس رویے اور فارمس کی عدم دستیابی نے اس پوری مہم کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے جس سے عوام پریشان اور الجھن کا شکار ہے۔ اگرچہ کے اعلیٰ عہدیداروں کا دعویٰ ہیکہ حیدرآباد کے تمام 15 اسمبلی حلقوں کیلئے Enumeration Forms کی چھپائی مکمل ہوچکی ہے لیکن زمینی حقیقت یہ ہیکہ حیدرآباد میں 1000 سے زائد BLOs اب بھی فارمس کا انتظار کررہے ہیں۔ جب عہدیداروں سے سوال کیا گیا تو وہ جواب دینے سے گریز کررہے ہیں۔ ضلع رنگاریڈی کے 8 اسمبلی حلقوں جیسے شیر لنگم پلی اور مہیشورم کے علاوہ پرانے شہر کے کئی علاقوں میں فارمس نہیں پہنچ پائے جبکہ دیگر اسمبلی حلقوں میں فارمس کی تقسیم کا سنگین مسئلہ برقرار ہے۔ گریٹر حیدرآباد کے تینوں اضلاع کے حدود میں تقریباً 10 ہزار پولنگ اسٹیشن ہیں جہاں ووٹرس کی مجموعی تعداد 1.25 کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق ہر پولنگ اسٹیشن کے تحت 500 سے 1500 ووٹرس رجسٹرڈ ہیں۔ الیکشن آفیسرس نے ہر BLO کو اپنے دائرہ اختیار کے تمام گھروں کا دورہ کرنے اور فارمس تقسیم کرنے کیلئے صرف ایک ہفتہ کا وقت دیا ہے۔ احکامات کے مطابق اگر کوئی گھر مقفل ہو تو بی ایل او کو دوبارہ وہاں جانا ہوگا یا پھر فارمس گھر کے اندر پھینکنے ہوں گے یا پڑوسیوں کے حوالے کرنے ہوں گے۔ ابتدائی تین دنوں میں فارمس کی عدم دستیابی، بی ایل اوز کا ڈیوٹی سے غائب رہنا اور ناقص نظم و نسق کی وجہ سے صرف 10 فیصد گھروں تک بھی رسائی حاصل نہ ہوسکی۔ اتوارکی تعطیل کو منہا کرنے کے بعد BLOs کے پاس دو یا تین دن کا وقت بچا ہے۔ موجودہ سست رفتاری اور عملے کے لاپتہ ہونے کو دیکھتے ہوئے مقررہ وقت پر کام کی تکمیل ناممکن نظرآرہی ہے جس کے باعث 4 جولائی سے شروع ہونے والا SIR کا اگلا مرحلہ بھی تاخیر کا شکار ہوسکتا ہے۔2/A/b