دھرم پوری حلقہ اسمبلی کے اسٹرانگ روم کے قفل توڑ دیئے گئے

   

ویڈیو ریکارڈنگ، رائے شماری کے دستاویزات ہائی کورٹ روانہ کئے جائیں گے
حیدرآباد۔23اپریل(سیاست نیوز) جگتیال وی آر کے کالج میں موجود دھرم پوری حلقہ اسمبلی کے اسٹرانگ روم کو ضلع کلکٹر محترمہ یاسمین باشاہ شیخ اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کی موجودگی میں توڑ دیاگیا۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کے احکام کے بعد مہربند اسٹرانگ روم کی کنجیاں نہ ملنے کے سبب دوبارہ عدالت کو صورتحال سے واقف کروایا گیا تھا جس پرعدالت نے اسٹرانگ روم کو ضلع کلکٹر اور الیکشن کمیشن کے عہدیداروں کی موجودگی میں توڑتے ہوئے اسٹرانگ روم میں موجود مواد عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت جاری کی تھی جس پر اتوار کی دوپہر ضلع کلکٹر کی موجودگی میں اسٹرانگ روم کے قفل کو توڑ دیا گیا۔ کانگریس امیدوار اے لکشمن نے ریاستی وزیر کوپالہ ایشور کے انتخاب کو چیالنج کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ووٹوں کی گنتی میں کی گئی دھاندلیوں کے ذریعہ کوپالہ ایشور کو کامیاب قرار دیا گیا تھا اور وہ مسلسل ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن ان کے مطالبہ کو نظرانداز کیا گیا جبکہ ان کے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ ریاستی وزیر کے انتخاب میں دھاندلیاں کی گئی ہیں۔ کانگریس کے شکست خوردہ امیدوار اے لکشمن کی جانب سے داخل کی گئی اس انتخابی عذرداری کی سماعت پر حکم التواء جاری کرنے کے لئے ریاستی وزیر اقلیتی بہبود مسٹر کوپالہ ایشور سال گذشتہ سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے تھے لیکن سپریم کورٹ کی جانب سے اس مقدمہ پر جو تلنگانہ ہائی کور ٹ میں زیر دوراں ہیں کسی قسم کا حکم التواء جاری نہ کئے جانے کے فیصلہ کے بعد تلنگانہ ہائی کورٹ نے اے لکشمن کی درخواست پر سماعت تیز کردی اور 10اپریل کو دھرم پوری حلقہ اسمبلی کے فارم 17-Aاورفارم17-C کے علاوہ رائے شماری کی سی سی ٹی وی ویڈیو کی تمام ریکارڈنگس عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن جب الیکشن کمیشن اور ضلع انتظامیہ کاعملہ وی آر کے کالج میں موجود اسٹرانگ روم پہنچا تو اس بات کا انکشاف ہوا کہ اسٹرانگ روم کی کنجیاں موجود نہیں ہیں۔ اسٹرانگ روم کے قفل کو توڑ کر حاصل کی گئی تفصیلات کے متعلق عہدیداروں نے بتایا کہ ویڈیوگرافی کرتے ہوئے حاصل کی گئی تمام تفصیلات کو عدالت میں پیش کردیا جائے گا ۔واضح رہے کہ ریاستی وزیر کوپالہ ایشور کو محض 441 ووٹ سے کامیاب قرار دیا گیا تھا جبکہ دوسرے نمبر پر رہنے والے والے امیدوار کا کہنا ہے کہ عہدیدارو ںنے ووٹوں کی گنتی میں دھاندلی کرتے ہوئے انہیں کامیاب قرار دیا ہے۔م