کم از کم 45 ہزار زیادہ سے زیادہ 1.80 لاکھ تک مقرر ہوگی۔ ٹی اے ایف آر سی کا جائزہ
حیدرآباد /8 جولائی ( سیاست نیوز ) جاریہ سال انجینئیرنگ کورسیس کی فیس کم از کم 45 ہزار اور زیادہ سے زیادہ 1.80 لاکھ روپئے ہونے کا امکان ہے ۔ تلنگانہ اڈمیشن فیس ریگولیٹری کمیٹی سے فیصلہ کی اطلاعات ہیں ۔ ٹی اے ایف آر سی سے 7 انجینئیرنگ کالجس کے نمائندوں کا اجلاس طلب کرکے فیس میں اضافہ کے معاملے میں تجاویز وصول کی جارہی ہے اور استھ ہی انہیں آڈیٹ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی جارہی ہے ۔ اس کا جائزہ لینے کے بعد آمدنی اور اخراجات کی بنیاد پر فیس مقرر کی جائے گی ۔ اس سلسلے میں کورونا بحران سے قبل یعنی 2019 کی آمدنی کے حسابات کو مدنظر رکھا جارہا ہے ۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ تلنگانہ آڈیشن میں ریگولیٹری کمیٹی انجینئیرنگ کی فیس کم از کم 45 ہزار روپئے مقرر کرنے سے اتفاق کیا ہے ۔ کالجس کے نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ کورونا بحران کے باعث گذشتہ تین سال کے دوران ان پر بھاری مالی بوجھ عائد ہوا ہے ۔ موجودہ فیس کے لحاظ سے کالجس کی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنا مشکل ہویگا ہے ۔ جس کی وجہ سے کمیٹی نے فیس میں اضافہ سے اتفاق کیا ہے ۔ کالجس نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ انجینئیرنگ کی کم از کم فیس 85 ہزار ہے ۔ اس میں 50 فیصد کا اضافہ کا مطالبہ کیا ۔ کمیٹی نے کالجس آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد کم از کم فیس میں مزید 10 ہزار روپئے اضافہ کا فیصلہ کیا ہے جس سے موجودہ فیس میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوگا ۔ اسکے علاوہ زیادہ فیس 1.40 لاکھ ہے ۔ پہلے زیادہ سے زیادہ 1.34 لاکھ روپئے فیس مقرر کی گئی تھی ۔ چند کالجس عدلیہ سے رجوع ہونے پر 1.40 لاکھ روپئے مقررکی گئی ۔ اس میں مزید کتنا اضافہ کیا چاہئے کمیٹی اس کا جائزہ لے رہی ہے ۔ چند کالجس نے زیادہ فیس کو 3 لاکھ روپئے تک بڑھانے ٹی اے ایف آر سی کو تجاویز پیش کی ہے ۔ کالجس کے مطالبہ کے مطابق فیس میں اضافہ کرنے کے امکانات نہیں ہے ۔ تاہم اس میں بھی 30 فیصد کا اضافہ کرنے کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ جس سے موجودہ فیس میں مزید 40 ہزار روپئے کا اضافہ ہوسکتا ہے ۔ یعنی فیس بڑھ کر 1.80 لاکھ روپئے تک پہونچ سکتا ہے ۔ ریاست میں فیس ریمبرسمنٹ اسکیم پر عمل کیا جارہا ہے ۔ فیس میں اضافہ کرنے پر حکومت پر بھی اضافی مالی بوجھ عائد ہوگا ۔ ن