میری حکومت آئیگی تو 100 کیلومیٹر کی رفتار سے ترقی ہوگی ، رئیل اسٹیٹ تاجرین کے اجلاس سے ہریش راؤ کا خطاب
سدی پیٹ میں منعقدہ رئیل اسٹیٹ تاجروں کے اجلاس میں سابق وزیر و ایم ایل اے تنیرو ہریش راؤ نے شرکت کی اور خطاب کیا۔ اس موقع پر ہریش راؤ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس حکومت میں رئیل اسٹیٹ کا شعبہ تباہ ہو گیا، جب رئیل اسٹیٹ اچھا چلتا ہے تو سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، سینیٹری، ماربل جیسے سینکڑوں متعلقہ شعبے بھی اچھے چلتے ہیں، حکومت کی رجسٹریشن آمدنی بھی بڑھتی ہے۔ کانگریس حکومت آنے کے بعد حیدرآباد، کریم نگر، نلگنڈہ، محبوب نگر، نظام آباد سمیت پورے ریاست میں رئیل اسٹیٹ بیٹھ گیا ہے۔ چائے کے ہوٹل، دکانیں، چھوٹے کاروبار نہیں چل رہے۔ ہزاروں خاندان سڑک پر آ گئے ہیں۔ EMI ادا نہ کر پانے پر فینانس کمپنیاں گاڑیاں ضبط کر رہی ہیں۔ بچوں کی فیس ادا نہ کر پانے پر لوگ شہر چھوڑ کر گاؤں جا کر کھیتی باڑی کرنے پر مجبور ہیں ، زندگی ہی اُلٹی ہو گئی ہے۔ ایک وقت تھا جب سدی پیٹ کا پلاٹ سونے سے زیادہ قیمتی تھا ۔ آج ایک کروڑ روپئے کی جائیداد بھی نہیں بک رہی ہے۔ بچوں کی شادیوں یا ضرورت کے لیے زمین بیچنی ہو تو بھی خریدار نہیں مل رہے ہیں ۔ جو زمین ایک کروڑ میں بکتی تھی، آج ساٹھ لاکھ میں بھی کوئی نہیں خرید رہا ہے ۔ انھوں نے مزید بتایا کہ بی آر ایس دور میں 10 لاکھ فی ایکڑ والی زمین کالیشورم کے پانی، سڑکوں، ریتو بندھو، ریتو بیمہ، آئل پام فیکٹریوں، آئی ٹی ٹاور، میڈیکل کالج، ریلوے آنے سے اچانک بڑھ گئی تھی۔سدی پیٹ میں خریدو تو دھوکہ نہیں ہے، قیمت یقینی بڑھے گی ، اس یقین کے ساتھ کریم نگر، میدک، کاماریڈی، نظام آباد، حیدرآباد اور اے پی سے بھی لوگوں نے سرمایہ کاری کی۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں لیکن ترقی نہیں رکنی چاہیے۔ ہائیڈرا کارروائیوں اور نئے قوانین کے نام پر کاروبار کو تباہ کر دیا گیا۔ سدی پیٹ کی ہمہ جہت ترقی کے لیے ہم کلکٹریٹ، نرسنگ کالج، میڈیکل کالج، کیندریہ ودیالیہ، ریلوے اسٹیشن لائے اور دیگر ترقیاتی کاموں کو انجام دیا ، لیکن سدی پیٹ کو ریونت ریڈی نام کا گرہن لگ گیا ہے۔ تین سال پورے ہو گئے۔ بس دو سال اور صبر کریں۔جیسے شنی دَشا کے بعد گرو دَشا آتی ہے، جیسے گرہن ختم ہوتا ہے، ویسے ہی سدی پیٹ کا اچھا مستقبل پھر آئے گا۔ بس انتظار کریں۔ سارے عوام ایک ہی بات سوچ رہے ہیں کہ یہ حکومت جانی چاہیے، دوبارہ کے سی آر صاحب کی حکومت آنی چاہیے۔ہماری حکومت دوبارہ آنے کے بعد میں سدی پیٹ کی ترقی کو 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑاؤں گا۔ آپ کی آنکھوں کے سامنے فلم کی ریل کی طرح ترقی دوڑے گی۔ اس کی ذمہ داری میری ہے۔