موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ فیس I کیلئے 7345 کروڑ کی منظوری، چار سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس کیلئے 6278 جائیدادیں
جی رام جی اسکیم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ، تلنگانہ ریاستی کابینہ کے فیصلے
حیدرآباد ۔2 ۔ جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ کابینہ نے تمام سرکاری اسکولس اور جونیئر کالجس کے ٹیچرس اور لکچررس کو طلبہ کے ساتھ ناشتہ ، دودھ اور لنچ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کابینہ نے موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کے پہلے مرحلہ کیلئے 7345 کروڑ کی منظوری دی۔ ریاست کے تین تلنگانہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس اور ورنگل کے سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل کے لئے 6278 جائیدادوں کی منظوری دی گئی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی زیر صدارت سکریٹریٹ میں منعقدہ کابینہ کے اجلاس میں ضمانت روزگار سے متعلق وی بی جی رام جی اسکیم پر ریاست میں عمل آوری سے اتفاق کرتے ہوئے تلنگانہ کے حقوق کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس کے بعد ریاستی وزراء پی سرینواس ریڈی ، اے لکشمن کمار اور ڈی انوسویا سیتکا نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کابینہ کے فیصلوں سے واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ یو پی اے دور حکومت میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کی زیر قیادت حکومت نے دیہی علاقوں میں ضمانت روزگار اسکیم منریگا متعارف کی تھی۔ اس اسکیم کو تمام ریاستوں نے قبول کیا اور 2006 سے عمل آوری شروع کی گئی۔ مرکز میں این ڈی اے برسر اقتدار آنے کے بعد حکومت نے ریاستی حکومتوں اور غریبوں کی رائے کا احترام کئے بغیر اسکیم میں تبدیلی کرتے ہوئے وی بی جی رام جی نام رکھا۔ کئی ریاستوں کے اعتراض کو مرکزی حکومت نے قبول نہیں کیا۔ یکم جولائی سے ملک بھر میں اسکیم پر عمل کیا جارہا ہے۔ تلنگانہ اسمبلی میں جنوری میں قرارداد منظور کرتے ہوئے جی رام جی اسکیم کی مخالفت کی گئی۔ باوجود اس کے کسی ترمیم کے بغیر ملک بھر میں اسکیم پر عمل آوری شروع کی گئی۔ اسکیم کے تحت ریاستوں پر مالی بوجھ میں اضافہ ہوگا۔ اسکیم کا جائزہ لینے اور دیگر ریاستوں کے موقف سے واقفیت کیلئے اتم کمار ریڈی کی صدارت میں کابینی سب کمیٹی قائم کی گئی۔ سب کمیٹی کی رپورٹ کا آج کابینہ کے اجلاس میں جائزہ لیا گیا۔ حکومت نے ناگزیر صورتحال میں جی رام جی اسکیم کو اختیار کرنے اور ریاست میں اسکیم پر عمل آوری کا فیصلہ کیا ہے۔ کابینہ نے ریاست کے مفادات کے تحفظ کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ دیگر ریاستوں نے بھی سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ قانونی جدوجہد کے ذریعہ تلنگانہ کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔ کابینہ نے پہلی تا 12 ویں جماعت کے طلبہ کیلئے جاریہ ناشتہ ، لنچ اور دودھ کی اسکیم کو ٹیچرس کیلئے توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری اسکولوں اور جونیئر کالجس کے ایک لاکھ 50 ہزار ٹیچرس اور لکچررس اس اسکیم سے استفادہ کرپائیں گے۔ اسکولس اور جونیئر کالجس کے غیر تدریسی اور ملازمین اور اسٹاف کو بھی یہ سہولت رہے گی۔ ریاست میں صحت کے شعبہ کو مستحکم کرنے کیلئے حکومت نے صنعت نگر ، ایل بی نگر اور الوال میں تلنگانہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس جبکہ ورنگل میں سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ چاروں ہاسپٹلس کے فوری طور پر آغاز کے لئے حکومت نے 6278 جائیدادوں کی منظوری دی ہے جن میں ڈاکٹرس ، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دوسرے عہدے شامل ہیں۔ حکومت نے مذکورہ چاروں ہاسپٹلس میں علاج کیلئے چیف منسٹر ریلیف فنڈ سے LOC کی اجرائی کا فیصلہ کیا۔ کابینہ نے موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کے فیس I پر عمل آوری کیلئے جلد ٹنڈرس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 21 کیلو میٹر پر محیط پہلے مرحلہ کے کاموں کیلئے 7345.12 کروڑ کی منظوری دی گئی۔ حمایت ساگر سے عیسیٰ اور عثمان ساگر تک ترقی دی جائے گی۔ سرینواس ریڈی نے کہا کہ ندی کے دونوں جانب ترقیاتی منصوبہ تیار کیا گیا ہے اور متاثرین کیلئے بازآبادکاری کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسی ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ کاموں کیلئے 147 نئی جائیدادیں منظور کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر محکمہ جات سے ضرورت پڑنے پر ملازمین کو حاصل کیا جائے گا۔ حکومت نے ورنگل ، جگتیال اور سوریا پیٹ میں گوداموںکی تعمیر کیلئے اراضی منظور کی ہے۔ اسٹیٹ ویر ہاؤزنگ کارپوریشن کو اراضی حوالے کی جائے گی۔ جواہر نوودیا ودیالیہ کے لئے دو مقامات پر اراضی الاٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ محبوب نگر کے پدائی پلی گاؤں میں 28.18 ایکر اور سوریا پیٹ ضلع کے کوداڑ میں 19.12 ایکر اراضی منظور کی جائے گی۔ جگتیال ضلع کے چلگل گاؤں میں کیندریہ ودیالیہ کے لئے پانچ ایکر اراضی کو کابینہ نے منظوری دی۔ کابینہ نے فیس ری ایمبرسمنٹ سے متعلق نئی اسکیم پر کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے کیونکہ یہ معاملہ ہائیکورٹ میں زیر دوران ہے۔1/k