آکہ تجھ بِن اسطرح اے دوست گھبراتا ہوں میں
جیسے ہر شئے میں کسی شئے کی کمی پاتا ہوں میں
کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے اندور میں چھاتروں کی گونج پروگرام میں حصہ لیا ۔ راجستھان کے کوٹہ سے شروع ہوا یہ سفر اتراکھنڈ ‘ پریاگ راج اور پونے کے بعد اندور میں منعقد ہوا ۔ جہاں جہاں یہ پروگرام منعقد ہو رہا ہے وہاں وہاں طلباء کے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور حکومت ان کے جوابات دینے سے گریز کر رہی ہے ۔ سوال کرنے پر تنقیدیں ہو رہی ہیں اور راہول گاندھی کے ریمارکس اور ان کی تقاریر کے کچھ حصوں اور اقتباسات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہوئے نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ چھاتروں کی گونج کے ذریعہ ملک کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے طلباء اور نوجوانوں کو سوال کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے ۔ راہول گاندھی کے اس پروگرام نے واقعتا حکومت کی نیند اڑادی ہے اور اس کا توڑ تلاش کرنے کی کوشش بھی شروع ہوگئی ہے تاہم تاحال اس کوشش میں کوئی کامیابی ملتی نظر نہیں آئی ہے ۔ راہول گاندھی جس طرح سے طلباء کو اپنے ساتھ اسٹیج پر مدعو کرتے ہوئے ان کے مسائل کی سماعت کر رہے ہیں اور انہیں آواز دے رہے ہیں کہ وہ اپنے مسائل کو حکومت تک پہونچائے وہ بات خاص طور پر ملک کے نوجوانوں کو پسند آ رہی ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ اس ملک میں گذشتہ ایک دہے سے زائد عرصہ سے کسی کو بھی سوال پوچھنے کا موقع نہیں دیا گیا تھا ۔ جس کسی نے حکومت سے سوال کیا تھا اسے جیلوں کی ہوا کھانے پر مجبور کردیا گیا ۔ مقدمات درج کئے گئے ۔ مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کے ذریعہ نشانہ بنایا گیا ۔ ان کے خلاف سازشیں ہوئیں ۔ سیاسی جماعتوں کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار کردیا گیا ۔ ان میں انحراف کی حوصلہ افزائی کی گئی ۔ غرض یہ کہ سوال پوچھنے پر ہر طرح سے نشانہ بنایا گیا تھا ۔ حکومت کا کام ملک کے نوجوانوں اور طلباء کے سوالات کے جواب دینا ہوتا ہے لیکن حکومت نے الٹا سوال پوچھنے پر کارروائی کرنے کا وطیرہ اختیار کرلیا تھا اور اسی طریقہ سے حکومت چلائی جا رہی ہے ۔ میڈیا ٹرائیل کے ذریعہ بھی سوال کرنے والوں کو رسواء کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی ۔
ملک کے ماحول میں نوجوان اور طلباء گھٹن محسوس کر رہے تھے ۔ ان میں بے چینی اور برہمی پیدا ہونے لگی تھی ۔ دہلی کے جنتر منتر پر شروع ہوئے احتجاج نے اس کو عملی شکل دی تھی ۔ ایک اہم مسئلہ پر جنتر منتر پر احتجاج ہوا جس نے سارے ملک کی توجہ حاصل کرلی اور بالآخر مرکزی حکومت کو گھٹنے ٹیکتے ہوئے دھرمیندر پردھان کو مستعفی کروانا پڑا تھا ۔ اس کے بعد بھی کئی مسائل ہیں اور کئی سوالات ہیں جن پر حکومت کو توجہ دینے اور جواب دینے کی ضرورت تھی تاہم ان سوالات کو کوئی جگہ نہیں مل پا رہی تھی ۔ راہول گاندھی نے چھاتروں کی گونج پروگرام شروع کرتے ہوئے طلباء کو یہ پلیٹ فارم فراہم کیا ہے ۔ وہ ملک کے کئی شہروں میں اس طرح کے پروگرام منعقد کر رہے ہیں۔ وہ ان کے مسائل کو راست طور پر سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کو عوام کے سامنے اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور حکومت کی جو ناکامیاں ہیں اور جو اجارہ داری کے ذریعہ کام چلایا جا رہا ہے ان کو بے نقاب کرنے کی مہم چلائے ہوئے ہیں۔ اس مہم کے اثرات دیکھنے میں آ رہے ہیں ۔ طلباء اور نوجوان اب اس مہم سے بڑی تعداد میں اور زیادہ جوش و خروش کے ساتھ جڑ رہے ہیں اور اپنے سوالات کو زبان دینے سے گریز نہیں کر رہے ہیں۔ حکومت کو شائد یہی بات پسند نہیں آ رہی ہے کیونکہ وہ سوال کرنے والوں کو پسند نہیںکرتی اور نہ ہی وہ سوالات کے جواب دینے کیلئے خود کو تیار کر پاتی ہے ۔
سسٹم پر اجارہ داری کا جو طریقہ کار ہے وہ حکومت ہر گوشے پر مسلط کرنا چاہتی ہے اور وہ نہیں چاہتی کہ کوئی بھی اس کے سامنے سوال کرنے کے قابل ہوجائے ۔ تمام رکاوٹوں اور تمام تر سازشوں کے باوجود راہول گاندھی کے یہ پروگرام انتہائی کامیابی سے منعقد کئے جا رہے ہیں اور سارے ملک میں یہ توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ حکومت کو اس مہم کو روکنے کی بجائے سوالات کے جواب دینے کی کوشش کرنی ر۔ یہ حقیقت ہے کہ جو نوجوان کسی کو اقتدار پر فائز کرسکتے ہیں وہ کسی کو بھی اقتدار سے بیدخل کرنے کی طاقت بھی رکھتے ہیں۔