سوشیل میڈیا کا دنیا میں جنون، چین میں 1.3 بلین یوزرس

   

ہندوستان 874 ملین کے ساتھ دوسرے اور امریکہ 312 ملین یوزرس کے ساتھ تیسرے نمبر پر
حیدرآباد ۔7۔ مئی (سیاست نیوز) سوشیل میڈیا زندگی کے ہر شعبہ کا لازمی حصہ بن چکا ہے اور اس کے مختلف پلیٹ فارمس کے یوزرس نے تمام عمر سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ بچوں سے لے کر ضعیف العمر افراد بھی سوشیل میڈیا کے جنون میں گرفتار ہوچکے ہیں۔ آبادی کے اعتبار سے مختلف ممالک میں سوشیل میڈیا یوزرس کی تعداد کا تعین کیا گیا ہے۔ دنیا کے اہم ممالک میں سوشیل میڈیا مارکٹ پر سروے کا اہتمام کیا گیا جس میں چین سرفہرست رہا جہاں سوشیل میڈیا یوزرس کی تعداد 1.3 بلین درج کی گئی ہے۔ ہندوستان 874.45 ملین کے ساتھ دوسرے نمبر ہے جبکہ امریکہ میں سوشیل میڈیا یوزرس کی تعداد 312 ملین درج کی گئی اور دنیا کا خود ساختہ سپر پاور تیسرے نمبر پر ہے۔ ڈیجیٹل اکنامی کے طور پر تیزی سے ابھرنے والے انڈونیشیا اور برازیل میں سوشیل میڈیا یوزرس کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ عالمی سطح پر تجارت ، کمیونیکیشن ، تفریح، کھیل کود اور دیگر شعبہ جات میں سوشیل میڈیا کے استعمال کے ذریعہ کئی ادارے اور افراد اپنی سرگرمیوں کو وسعت دے رہے ہیں۔ انڈونیشیا میں سوشیل میڈیا یوزرس کی تعداد 203.35 ملین درج کی گئی جبکہ برازیل میں یہ تعداد 160.06 ملین ہے۔ روس میں 132.21 ملین افراد سوشیل میڈیا پر سرگرم ہیں۔ پاکستان میں سوشیل میڈیا یوزرس کی تعداد 130.3 ملین درج کی گئی ۔ دنیا کے 8 ممالک میں سوشیل میڈیا یوزرس کی تعداد پر مشتمل تفصیلات جاری کی گئی جن میں فلپائن 114.62 ملین کے ساتھ آٹھویں نمبر پر رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشیل میڈیا نے عوام کے طرز زندگی کو تبدیل کردیا ہے۔ خرید و فروخت کے معاملات سے لے کر غذائی اشیاء اور ادویات کے حصول میں سوشیل میڈیا نے کئی ایک سہولتوں کو فراہم کیا ہے۔ ماہرین یہاں تک کہا کہ اگر سوشیل میڈیا کے کئی پلیٹ فارمس اچانک بند کردیئے جائیں یا کوئی تکنیکی خرابی پیدا ہوجائے تو عام زندگی مفلوج ہوکر رہ جائے گی۔1/k/m/b