طلباء کے مطالبات اور حکومتیں

   

جذبۂ شوق کدھر کو لئے جاتا ہے مجھے
پردۂ راز سے کیا تم نے پکارا ہے مجھے
دارالحکومت دہلی کے جنتر منتر پر سی جے پی کے بیانر تلے ہوئے احتجاج اور پھر بعد میں پیدا ہوئے حالات نے سارے ملک میں ایک طرح سے طلباء اور نوجوانوں کے مطالبات کے تعلق سے شعور بیدار کردیا ہے ۔ سماج کے کئی طبقات ایسے ہیں جنہوں نے ملک میں موجود حالات کو قسمت کاکھیل سمجھ کر قبول کرلیا تھا اور خاموشی سے حالات کی مار سہنے پر مجبور ہوگئے تھے ۔ وہ خود کو یہ تسلی دے رہے تھے کہ ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے کہ حالات بدل سکیںیا پھر یہ کہ وہ تنہا کیا کرسکتے ہیں۔ اگر وہ صدائے احتجاج بلند بھی کریں تو ان کی سنوائی کون کرے گا ۔ تاہم اچانک ہی غیر متوقع طور پرحالات میں تبدیلی پیدا ہوئی ۔ سی جے پی کے بیانر تلے جنتر منتر پر احتجاج شروع ہوا ۔ ایک ماہ کے صبر آزما انتظار کے بعد اس احتجاج کو سارے ملک میں توجہ حاصل ہوئی ۔ حکومت کو بھی اس احتجاج کو قبول کرنا پڑا ۔ طلباء کے مطالبات کو تسلیم کرنا پڑا اور مرکزی وزارت سے دھرمیندر پردھان کو مستعفی ہونا پڑا تھا ۔ یہ تاثر بھی دیا جانے لگا تھا کہ جنتر منتر کے احتجاج کی کامیابی ایک استثنائی واقعہ ہے اور اس طرح سے حالات کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا ۔ تاہم چند ہی دن کے فرق سے جھارکھنڈ جیسی پسماندہ سمجھی جانے والی ریاست میں بھی احتجاج شروع ہوا ۔ وہاں بھی طلباء کی کثیر تعداد پہونچ گئی ۔ جو گودی میڈیا جنتر منتر کے احتجاج کو مسلسل نظر انداز کرتا رہا تھا اس نے بھی جھارکھنڈ کے احتجاج کو خوب تشہیر فراہم کی ۔ طلباء کی جدوجہد پر مباحث بھی ہوئے اور پھر جھارکھنڈ کی ہیمنت سورین حکومت کو بھی طلباء کے مطالبات کو تسلیم کرنا پڑا ۔ سرکاری ملازمتوں کے جن امتحانات میں بدعنوانیوں کے الزامات عائد کئے گئے تھے انہیں منسوخ کرنا پڑا ہے ۔ اس طرح مختصر سے وقفہ میں طلباء کی جانب سے دو بڑی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ ان میں تفریق کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ طلباء کا کسی بھی ذہنی سوچ سے تعلق ہو لیکن وہ طلباء ہیں اور وہ کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کے آگے حکومتوں کو جھکنا پڑا ہے اور ان کے مطالبات تسلیم کرنے پڑے ہیں۔
ان دونوں ہی واقعات سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ طلباء اور نوجوان کسی بھی ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ حالات کو بدلنے میں ان کی طاقت کو کوئی نظر انداز نہیں کرسکتا ۔ حکومتیں بھلے ہی اپنے اقتدار کے زعم اور نشہ میں مبتلا کیو ں نہ ہوں انہیں طلباء اور نوجوانوں کی طاقت کے آگے جھکنا پڑتا ہے اور ان کے مطالبات کو تسلیم کرنا پڑتا ہے ۔طلباء کی جانب سے ملک کی مختلف ریاستوں میں کئی مسائل کو اٹھاتے ہوئے صدائے احتجاج بلند کی جا رہی ہے اور یہ امکانات برقرار ہیں کہ آئندہ وقتوں میں ملک کی کسی اور ریاست میں کسی اور مسئلہ پر نوجوانوں کی جانب سے احتجاج شروع کردیا جائے ۔ بدلتے ہوئے حالات میں طلباء اب اپنی آواز اٹھانے کیلئے کسی اور پر انحصار کرنے کی بجائے خود آگے بڑھ کر ذمہ داری سنبھال رہے ہیں اور اپنے مطالبات کو پیش کر رہے ہیں۔ اپنی رائے کے اظہار میں اب طلباء میں کوئی پس و پیش نہیں رہ گیا ہے ۔ وہ میڈیا ٹرائیل سے بھی گھبرا نہیں رہے ہیں بلکہ حکومت کا پروپگنڈہ کرنے والے گودی میڈیا کے تلوے چاٹنے والے اینکرس کو واضح اور منہ توڑ جواب دینے لگے ہیں۔ یہ صورتحال ایسی ہے کہ مرکزی حکومت ہو یا ملک کی تمام ریاستوں کی حکومتیں ہوں سبھی کو اپنے طرز کارکردگی کا جائزہ لینا چاہئے اور طلباء اور نوجوانوں کے جذبات اور ان کی توقعات کے مطابق اپنی پالیسیوں کو تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہی حکومتوں کیلئے بہتر ہوسکتا ہے ۔
یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ طلباء اور نوجوانوں کو ناراض اور نظر انداز کرتے ہوئے حکومتیں موثر ڈھنگ سے کام نہیں کرسکتیں اور انہیں کسی بھی وقت عوامی ناراضگی اور برہمی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ مرکزی حکومت اور تمام ریاستی حکومتوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ صرف احتجاج کا انتظار نہ کریں بلکہ وقت سے پہلے ہی ایسے حالات بنائیں کہ احتجاج کی نوبت آنے نہ پائے اور طلباء اور نوجوانوں کو اعتماد میں لے کر ان کے مستقبل کو پیش نظر رکھتے ہوئے پالیسیاں بنائیں اور بدعنوانیوں کے خاتمہ پر توجہ دی جائے ۔