عتیق احمد قتل معاملہ کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ: اسد اویسی

   

اتر پردیش کے دورہ سے خوفزدہ نہیں ہوں، وزیر اعظم سے خاموشی توڑنے کا مطالبہ

حیدرآباد۔/16اپریل، ( سیاست نیوز) مجلس کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف احمد کی ہلاکت پر اتر پردیش کی بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اسد اویسی نے کہا کہ پولیس کی تحویل کے دوران حملہ دراصل اتر پردیش میں امن و ضبط کی ابتر صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ موجودہ حالات میں اتر پردیش کا دورہ کرنے سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ اسد اویسی نے کہا کہ میں ہمیشہ یہ بات کہتا رہا ہوں کہ اتر پردیش میں بی جے پی قانون کی حکمرانی سے نہیں بلکہ بندوق کی زور پر حکومت چلار ہی ہے۔ انہوں نے عتیق احمد اور ان کے بھائی کی ہلاکت کے معاملہ میں بی جے پی حکومت کے رول کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں اترپردیش سے تعلق رکھنے والا کوئی عہدیدار موجود نہ ہو۔ اسد اویسی نے عتیق احمد اور ان کے بھائی کی ہلاکت کو انتہائی بہیمانہ اور سفاکانہ قتل قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی انتہا پسندی کو روکنے کی ضرورت ہے۔ میں یقینی طور پر اتر پردیش کا دورہ کروں گا اور میں خوفزدہ نہیں ہوں ’’ جب پیار کیا تو ڈرنا کیا ‘‘۔ انہوں نے ہلاکت کا جشن منانے والوں کو گِدھ سے تعبیر کیا اور کہا کہ قاتلوں کے پاس ہتھیار کہاں سے پہنچے اور وہ ہلاک کرنے کے بعد مذہبی نعرے کیوں لگارہے تھے۔ آپ انہیں دہشت گرد نہیں تو کیا کہیں گے، کیا انہیں دیش بھکت کہا جائے گا۔ اس واقعہ پر جشن منانے والے گدھ کے مماثل ہیں۔ اس واقعہ نے امن و ضبط کی صورتحال کے بارے میں اہم سوال کھڑا کردیا ہے۔ اسد اویسی نے سوال کیا کہ اس واقعہ کے بعد عوام کا لاء اینڈ آرڈر اور دستور پر بھروسہ کس طرح قائم رہے گا۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اس معاملہ میں لب کشائی کی مانگ کی اور کہا کہ وزیر اعظم تقریر میں کہتے ہیں کہ میری سپاری دی گئی ہے، اب آپ کہیئے کہ اتر پردیش میں کیا ہورہا ہے جہاں سے آپ پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔ ہندوستان کا ہر شہری خود کو کل کے واقعہ کے بعد غیر محفوظ تصورکررہا ہے۔ اسد اویسی نے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ سے استعفی کا مطالبہ کیا اور واقعہ کے وقت موجود پولیس عہدیداروں کو خدمات سے برطرف کرنے کی مانگ کی۔ر
اورنگ آباد مہاراشٹرا قائدین کی
بی آر ایس میں شمولیت
حیدرآباد 16 اپریل (سیاست نیوز) مہاراشٹرا کے مختلف علاقوں سے قائدین کی بی آر ایس میں شمولیت کا سلسلہ جاری ہے۔ قومی صدر کے چندرشیکھر راؤ کو مہاراشٹرا میں غیرمعمولی تائید حاصل ہورہی ہے۔ اورنگ آباد سے تعلق رکھنے والے کئی قائدین نے آج پرگتی بھون پہونچ کر بی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ کے سی آر نے سابق رکن اسمبلی انا صاحب مانے، سنتوش مانے اور پرشانت پاٹل کا استقبال کیا۔ انا صاحب کا تعلق شیوسینا سے ہے اور وہ 2 مرتبہ رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔ سنتوش کمار گنگاپور اسمبلی حلقہ سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ پرشانت پاٹل کا تعلق این سی پی سے ہے۔ گورنمنٹ وہپ بی سمن اس موقع پر موجود تھے۔