نئی دہلی 15 مئی:(ایجنسیز) سپریم کورٹ نے اْناؤ عصمت دری معاملے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے سابق رکنِ اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کو ملی راحت واپس لیتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ کے اس حکم کو کالعدم قرار دے دیا، جس کے تحت اس کی سزا پر عبوری روک لگا کر ضمانت دی گئی تھی۔ عدالتِ عظمیٰ نے معاملہ دوبارہ غور کے لیے دہلی ہائی کورٹ کو واپس بھیج دیا ہے۔چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے میں بعض قانونی نکات پر تفصیلی غور کی ضرورت ہے۔ دسمبر 2025 میں دہلی ہائی کورٹ نے کلدیپ سنگھ سینگر کی عمر قید کی سزا پر عبوری روک لگاتے ہوئے اسے ضمانت دے دی تھی۔ اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں شدید ردِعمل سامنے آیا تھا اور مختلف سماجی و قانونی حلقوں نے اس پر اعتراضات اٹھائے تھے۔ بعد ازاں مرکزی تفتیشی ادارے نے اس حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔2019 میں تفتیشی ادارے کی خصوصی عدالت نے اْناؤ عصمت دری معاملے میں کلدیپ سنگھ سینگر کو قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ یہ معاملہ پورے ملک میں غیر معمولی توجہ کا مرکز بنا تھا۔ متاثرہ لڑکی اور اس کے اہلِ خانہ کی جانب سے مسلسل یہ الزام عائد کیا جاتا رہا کہ سینگر اور اس کے ساتھی انہیں دھمکیاں دے رہے تھے اور ہراساں کر رہے تھے۔کلدیپ سنگھ سینگر متاثرہ لڑکی کے والد کی حراست میں موت سے متعلق ایک دوسرے مقدمے میں بھی سزا کاٹ رہا ہے۔
جنوری 2026 میں دہلی ہائی کورٹ نے اس مقدمے میں سزا پر روک لگانے کی اس کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مجرمانہ ریکارڈ نہایت سنگین نوعیت کا ہے اور سزا پر روک کے لیے کوئی نیا جواز موجود نہیں۔