ہائی کورٹ کے حکم التواء کے خلاف جگن موہن ریڈی حکومت کی درخواست
حیدرآباد۔/17 جنوری، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش حکومت نے سڑکوں پر سیاسی پارٹیوں کی ریالیوں اور جلسوں پر پابندی سے متعلق احکامات کی برقراری کیلئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ جگن موہن ریڈی حکومت نے جی او(1) جاری کرتے ہوئے سڑکوں اور عوامی مقامات پر جلسوں و ریالیوں پر پابندی عائد کردی۔ اپوزیشن جماعتوں نے ہائی کورٹ میں جی او کو چیلنج کیا جس پر آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے 23 جنوری تک جی او پر عمل آوری روک دی تھی۔ ہائی کورٹ کے حکم التواء کے خلاف آندھرا پردیش حکومت سپریم کورٹ سے رجوع ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ 2 جنوری کو جاری کردہ جی او کے خلاف سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری کے رام کرشنا نے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست دائر کی تھی۔ درخواست گذار کے وکیل ایس اشونی کمار نے کہا کہ جدوجہد آزادی کے دوران برطانوی حکومت نے ریالیوں اور جلسوں کو روکنے کیلئے دفعہ 144 نافذ کیا تھا لیکن تلنگانہ پولیس نے اس سے آگے بڑھتے ہوئے جلسوں پر پابندی عائد کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پُرامن طور پر جلسوں کے انعقاد کی اجازت دی جانی چاہیئے۔ جمہوریت میں اپوزیشن کو روکنا مناسب نہیں ہے۔ حال ہی میں چندرا بابو نائیڈو کے روڈ شو میں دو مقامات پر بھگدڑ کے واقعات کے بعد جگن موہن ریڈی حکومت نے جی او (1) جاری کیا اور چندرا بابو نائیڈو کپم میں روڈ شو کی اجازت نہیں دی تھی۔ ر