غیر تدریسی کاموں کے بوجھ تلے دب کر رہ گیا تعلیمی معیار

   

سروے ۔ الیکشن ڈیوٹی اور دوسرے کاموں سے بچوں کی تعلیم متاثر ، نیتی ایوگ کا انکشاف
حیدرآباد ۔ 14 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : نیتی ایوگ کی حالیہ رپورٹ نے ملک میں اسکولی تعلیم کے معیار میں حائل بڑی رکاوٹوں کا پردہ فاش کردیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق اساتذہ کو تدریس کے بجائے سروے ، الیکشن ڈیوٹی اور دیگر غیر تدریسی کاموں میں الجھانا بچوں کی تعلیمی کارکردگی میں کمی کی سب سے بڑی وجہ بن رہا ہے ۔ نیتی ایوگ کی رپورٹ میں کئی چونکا دینے والے انکشافات ہوئے ہیں ۔ ایک ٹیچر کے تدریسی وقت کا تقریبا 14 فیصد حصہ غیر تدریسی سرگرمیوں کی نذر ہوجاتا ہے ۔ حق تعلیم قانون (RTE) ایکٹ کے تحت پرائمری اسکولس میں سالانہ 200 دن ( 800 پیریڈز ) اور اپرپرائمری میں 220 دن ( 1000 پیریڈز ) تدریس کے لیے مختص ہونے چاہئے لیکن ریکارڈ کی دیکھ بھال اور دوپہر کے کھانے کی نگرانی جیسے کاموں کی وجہ سے یہ ہدف پورا نہیں ہوپا رہا ہے ۔ ملک بھر میں 1.04 لاکھ اسکولس ایسے ہیں جہاں صرف ایک ٹیچر تعینات ہے ۔ جہاں 62,288 بچے زیر تعلیم ہیں ایک اکیلے ٹیچر کو 5 کلاسوں کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ دفتری کام بھی سنبھالنے پڑتے ہیں ۔ لیبارٹریز کی کمی کا بھی بہت بڑا مسئلہ ہے ۔ ملک کے 50 فیصد اسکولس میں (Labs) موجود نہیں ہیں ۔ ریاست تلنگانہ کے 27000 سرکاری اسکولس میں صرف 6,164 غیر تدریسی ملازمین کام کررہے ہیں ۔ ٹیچرس کا کہنا ہے کہ تقریباً 10 مختلف قسم کی ایپس پر روزانہ ڈیٹا اپ لوڈ کرنا پڑتا ہے ۔ ضلع عادل آباد کے ایک پرنسپل نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایپس میں ڈیٹا اپ لوڈ نہ کرنے پر جواب طلب کیا جاتا ہے ۔ جس کی وجہ سے ہمیں اکثر کلاسیس چھوڑ کر موبائل اور کمپیوٹر پر کام کرنا پڑتا ہے ۔ اساتذہ اور ماہرین تعلیم نے مطالبہ کیا ہے کہ ہر ہائی اسکول اور 100 سے زائد طلبہ والے پرائمری اسکول میں کم از کم ایک نان ٹیچنگ اسٹاف کا تقرر کیا جائے ۔ ٹیچرس کو ایپس اور سروے کے کاموں سے مکمل استثنیٰ دیا جائے تاکہ وہ پوری توجہ بچوں کی پڑھائی پر دے سکے ۔ رپورٹ کے آخر میں یہ بھی نوٹ کیا گیا جہاں پرنسپل خلوص نیت اور بہتر انتظامی حکمت عملی سے کام کرتے ہیں ۔ وہاں کے نتائج دیگر اسکولس کے مقابلے میں بہتر ثابت ہورہے ہیں ۔۔ 2/m/b