فرانس میں سینکڑوں سوپر مارکٹس پر انوکھا سائبر حملہ

,

   

فریزر کا درجہ حرارت غیرمعمولی حد تک بڑھ گیا ، کروڑوں یوروز کا نقصان

پیرس ۔ 13 اکٹوبر (ایجنسیز) فرانس میں سینکڑوں سوپر مارکٹس کے ریفریجریشن سسٹمز پر بڑے پیمانے پر سائبر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجہ میں فریج اور فریزر کا درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھ گیا، خوراک خراب ہوگئی اور متعدد اسٹورز میں آگ لگنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ حکام نے حملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں، جبکہ ممکنہ نقصان کا تخمینہ کروڑوں یورو لگایا جا رہا ہے۔الجزیرہ، اے ایف پی اور رائٹرز کے مطابق فرانس کی بڑی ریٹیل کمپنیوں انٹرمارشے، کوآپریٹو یو، ای لی کلرک، کیریفور اور مونوپری نے پیر کو اس سائبر حملے کی تصدیق کی۔ ان کمپنیوں نے اسے غیر معمولی نوعیت کا واقعہ قرار دیا۔انٹرمارشے اور اس کے نیٹو برانڈ کے کم از کم 300 اسٹورز، کوآپریٹو یو کے 100 سے زائد مراکز اور کیریفور کے 80 سوپر مارکٹس متاثر ہوئیں۔ مونوپری کے مطابق اس کے تقریباً 490 اسٹورز میں سے 5 فیصد کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ای لی کلرک کے بھی متعدد اسٹورز متاثر ہوئے۔پیرس پراسیکیوٹر آفس کے مطابق حملے میں بڑی فوڈ ریٹیل کمپنیوں کے انٹرنیٹ سے منسلک ریفریجریشن سسٹمز کو نشانہ بنایا گیا، جس سے خوراک ضائع ہوئی اور آگ لگنے کے واقعات پیش آئے فریج کا درجہ حرارت 50 ڈگری تک پہنچ گیاابتدائی معلومات کے مطابق ہیکرز نے دور بیٹھ کر ریفریجریشن سسٹمز کو زبردستی ڈی فراسٹ کرنے کا عمل شروع کیا، جس کے باعث متعدد اسٹورز میں فریج اور فریزر کا درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ نتیجتاً تازہ اور منجمد اشیائے خورونوش کے بڑے ذخیرے خراب ہوگئے۔انٹرمارشے کے چیف ایگزیکٹو تھیری کوتیلارڈ نے فرانسیسی ٹی وی چینل بی ایف ایم کو بتایا کہ اس حملے سے ملک بھر میں ایک ہی دن کے دوران کروڑوں یورو کا نقصان ہوسکتا ہے۔ کمپنی نے کہا کہ متاثرہ اسٹورز کو خراب ہونے والی تازہ اور منجمد مصنوعات تلف کرنا پڑیں گی۔کوآپریٹو یو کے سربراہ ڈومینک شیلشر نے کہا کہ کمپنی کے ریفریجریشن سسٹمز اتوار کی رات سے متاثر تھے۔ ان کے مطابق تازہ خوراک محفوظ رکھنے اور عوام کو غذائی ضروریات فراہم کرنے والے نظام کو نشانہ بنانا انتہائی سنگین اور ناقابل قبول اقدام ہے۔فرانس کے وزیراعظم سیباستیاں لیکورنو نے قومی سائبر سکیورٹی ایجنسی (ANSSI) کو حملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ حکام یورپی ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا دوسرے ملکوں کی کمپنیاں بھی اس خطرے سے متاثر ہوئی ہیں۔وزیراعظم کے دفتر سے وابستہ ایک ذریعہ کے مطابق تحقیقات میں ڈنمارک کی کمپنی ڈانفوس کے تیار کردہ سافٹ ویئر میں موجود ممکنہ کمزوری کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ڈانفوس نے کہا کہ فرانس میں ریفریجریشن مینجمنٹ کے محدود تعداد میں سسٹمز متاثر ہونے کے واقعات کا علم ہے۔ کمپنی کے مطابق متاثرہ یونٹس میں پرانا فرم ویئر استعمال ہورہا تھا اور صارفین کو سسٹمز اپ ڈیٹ رکھنے کی ہدایت کی جاتی رہی ہے۔