فیروز آباد، 20 ستمبر (یو این آئی) اتر پردیش کے فیروز آباد میں اتوار کو یو جی سی کے خلاف اعلیٰ ذات کے لوگوں نے متحد ہوکر مظاہرہ کیا اور ریالی نکالی۔ ضلعی ہیڈکوارٹر کی جانب جارہے مظاہرین کو پولیس نے بیری کیڈنگ لگا کر زبردستی روکنے کی کوشش کی، جس پر جھڑپ ہوگئی۔ یو جی سی واپس لینے کے مطالبے پر وزیراعظم کے نام ایک میمورنڈم پیش کیا گیا۔یو جی سی کے خلاف اتوار کو مقامی گاندھی پارک میں بڑی تعداد میں اعلیٰ ذات کے لوگ ریالی نکالنے کیلئے جمع ہوئے تھے جن میں خاص طور پر نوجوان طبقے کے ساتھ اعلیٰ ذات کے لوگوں کے علاوہ مسلم برادری کے افراد بھی شامل تھے۔ یو جی سی واپس لینے کے ساتھ حکومت مخالف نعرے بھی لگائے گئے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ انہیں امتیازی سلوک کرنے والا اور سماج کو تقسیم کرنے والا آئین منظور نہیں ہے۔ سماج کے اتحاد اور ملک کی سالمیت کیلئے یو جی سی کو واپس لیا جانا ضروری ہے۔
مظاہرین نے گاندھی جی کے مجسمے کے پاس بیٹھ کر مرکزی حکومت کی جانب سے نافذ کیے گئے یو جی سی کے خلاف دھرنا دیا۔ بعد میں مظاہرین نے ہاتھوں میں تختیاں لے کر ضلعی ہیڈکوارٹر کی طرف مارچ کیا، تب راستے میں بڑی تعداد میں تعینات پولیس فورس نے بیری کیڈنگ لگا کر انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ اس پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان کافی دیر تک جھڑپ ہوتی رہی۔ بعد میں سینئر افسران کی مداخلت کے بعد مظاہرین کو سمجھا بجھا کر پرسکون کیا گیا۔ مظاہرین وہیں دھرنے پر بیٹھ گئے ۔ بعد میں موقع پر سب ڈویژنل مجسٹریٹ پہنچے اور مظاہرین کی جانب سے وزیر اعظم کے نام پیش کیا گیا میمورنڈم وصول کیا۔