نئی دہلی: دارالحکومت دہلی کے آئی ٹی او پر واقع تاریخی اہمیت کا حامل فیروز شاہ کوٹلہ میں نماز کے لئے داخل ہونے والے افراد کو داخلہ فیس ادا کرنا پڑتی ہے۔ خیال رہے کہ فیروز شاہ کوٹلہ تاریخی اور عقیدت دونوں ہی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے اور یہاں جمعرات اور جمعہ کے روز عقیدت مندوں کی کثیر تعداد منت مانگنے اور نماز ادا کرنے کے لئے آتی ہے۔فیروز شاہ کوٹلہ میں داخل ہونے کے لئے اب 25 روپے کا ٹکٹ لینا لازمی کردیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر وہ نماز کے لئے فیروز شاہ کوٹلہ جائیں تو 25 روپے کا ٹکٹ لینا پڑتا ہے جبکہ نمازیوں کے لئے داخلہ مفت ہونا چاہئے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر آثار قدیمہ کو فیروز شاہ کوٹلہ کی دیکھ رکھ کے لئے اگر نمازیوں پر فیس عائد کرنا پڑ رہی ہے، تو پھر اس نے شاہی جامع مسجد میں داخلہ پر ٹکٹ کیوں نہیں لگایا، جبکہ وہاں بھی پانچوں وقت نماز ادا کی جاتی ہے۔اس معاملہ پر سوشل میڈیا پر بھی بحث ہو رہی ہے اور لوگ اس اقدام کو مسلم مخالف اور نماز پر پابندی کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ حالانکہ فیروز شاہ کوٹلہ محکمہ آثارِ قدیمہ کے زیر اہتمام آتا ہے، یہاں کی مسجد میں دہلی وقف بورڈ کے امام اور موذن نماز پڑھاتے ہیں۔دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان کنور شہزاد نے کہا کہ اس تاریخی مسجد میں برسوں سے نماز ادا کی جا رہی ہے، تاہم گزشتہ برس سے لوگ مرکزی و ریاستی حکومت اور محکمہ آثار قدیمہ سے نماز کے لئے مفت داخلے کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فیروز شاہ کوٹلہ برسوں سے آثارِ قدیمہ کے زیر انتظام آتا ہے، یہاں کی مسجد میں دہلی وقف بورڈ کے امام اور موذن نماز پڑھاتے ہیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ اگر فیروز شاہ کوٹلہ میں کسی شخص کو نماز ادا کرنی ہو تو اس کو 25 روپے کا ٹکٹ لینا پڑتا ہے۔
اس معاملے پر دہلی مجلس کے صدر کلیم الحفیظ نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسجد میں نماز کے لئے ٹکٹ لگانا بڑی حیرت کی بات ہے، وہ بھی ایسے ملک میں جہاں سب کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی یکساں آزادی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس آرڈر کو واپس لینا چاہئے اور نمازیوں کو نماز ادا کرنے کے لئے مفت داخلے کی اجازت دینی چاہئے۔