لاکھوں مسلمان حج کی سعادت سے مشرف، میدانِ عرفات میں بڑا اجتماع

,

   

خطبہ حج میں امام الحذیفی کی مسلمانوں کے حالات میں بہتری اور یکجہتی کیلئے دعائیں ، جن قوموں نے ظلم کیا اور ناشکری کی ان سے نعمتیں چھین لی گئیں

مکہ مکرمہ۔26؍مئی ( ایجنسیز)سعودی عرب کے میدانِ عرفات میں تقریباً30 لاکھوںزائد حجاج کرام کی موجودگی سے روحانی فضا قائم ہو گئی ہے۔ آج مسجد نبویؐ کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی نے مسجد نمرہ میں خطبۂ حج کی سعادت حاصل کرتے ہوئے اس ماحول کو مزید روحانی بنا دیا۔ انھوں نے خطبہ میں کہا ہے کہ تقویٰ اختیار کرنا ایمان والوں کی شان ہے۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور تقویٰ اختیار کرو، اپنے عہد کی پاسداری کرو۔ انہوں نے مزید کہا کہ قیامت کا زلزلہ انتہائی شدید ہے جبکہ آخرت کی سب سے بڑی کامیابی توحید ہے۔ جو لوگ شرک و کفر کرتے ہیں وہ ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جو کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔مسجد نمرہ میں لاکھوں حجاج کرام کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے شیخ علی الحذیفی نے کہا کہ جو اللہ سے ڈرتا ہے، اْس کیلئے اللہ نے دوہری جنت رکھی ہے۔ اللہ صبر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ اللہ نے ابراہیمِ کو کہا حج کیلئے منادی کریں اور اللہ تعالیٰ دور دراز تک یہ آواز پہنچائیں گے۔ خطبہ حج میں امام مسجد نبوی ؐ عبدالرحمان الحذیفی نے کہا توحید پر عمل درآمد ایمان کا حصہ ہے اور نبی کریم ? اللہ کے آخری رسول ہیں، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کی نعمتوں سے فائدہ اٹھائیں، جن قوموں نے ظلم کیا اور ناشکری کی ان سے نعمتیں چھین لی گئیں۔دور دراز سے لوگ حج کیلئے آئے ہیں تاکہ دنیا و آخرت میں وہ کامیاب ہوں۔ یہاں جھگڑا نہیں کرنا اور گناہ نہیں کرنا اور تمام چیزیں جن کا وعدہ اللہ نے کیا انھیں پورا کیا جائے اور جو بھی شعائر اللہ کا احترام کرتا ہے یہ تقویٰ کی نشانی ہے۔خطبۂ حج کے دوران ڈاکٹر شیخ علی الحذیفی نے اپنے خطاب میں سبھی کو سچ بولنے کی تلقین کی اور غلط بیانی سے سخت منع کیا۔ بدعت اور غیبت سے دور رہیے۔ حجاج کرام عرفات سے فارغ ہونے کے بعد منیٰ تشریف لے جائیں گے اور مناسک بہترین انداز میں ادا کریں۔انھوں نے یہ بھی تلقین کی کہ حجاج کرام ہر لمحہ مغفرت کی دعا کرتے رہیں، اللہ تعالیٰ کے ذکر اور عبادات میں مصروف رہیں، نماز قائم کریں، اللہ تعالیٰ ہی دعائیں قبول کرنے والا ہے۔شیخ علی الحذیفی نے خطبۂ حج میں دنیا کے مختلف ممالک سے عرفات میں جمع ہوئے لوگوں پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر سے مختلف رنگوں کے لوگ یہاں آئے ہیں جو اللہ کی طرف سے ایک بڑا مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں میں حاجیوں پر فخر کر رہا ہے جو آج جمع ہوئے اور عبادات کیں۔انھوں نے حجاج کرام سے کہا کہ عازمین حج یہاں عرفات میں قیام کریں گے پھر اگلے دن مزدلفہ جائیں گے جس کے بعد وہ منی میں تشریف لے کر جائیں گے جہاںکثرت سے اللہ کا ذکر کرنا ہے۔ آپ یہاں منی میں رہتے ہوئے 11، 12 کی راتیں گزاریں گے اور اپنے گھروں کو لوٹنے سے پہلے طواف کریں گے۔آخر میں انھوں نے دعا کی کہ ’’یا اللہ! تمام حجاج کرام کو بہ حفاظت اور سلامتی کے ساتھ واپس اپنے گھروں کو لوٹا اور ان کے دلوں میں حق کو جمع کر دے اور ان کے حج کے تمام مناسک کو قبول فرما۔ مقدس مناسک جاری ہیں اور دنیا بھر سے آئے لاکھوں فرزندانِ اسلام نے حج کے رکنِ اعظم ’’وقوفِ عرفہ‘‘ کی ادائیگی کیلئے میدانِ عرفات میں جمع ہو ئے اور خطبہ حج سنا۔قبل ازیںمکہ مکرمہ سے حجاج کرام قافلوں کی صورت میں منیٰ پہنچے جہاں انہوں نے نمازِ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء ادا کیں۔ عازمینِ حج نے منیٰ میں رات عبادات، ذکر و اذکار اور تلاوتِ قرآن پاک میں گزاری جبکہ ہر طرف ’لبیک اللھم لبیک‘ کی روح پرور صدائیں گونجتی رہیں۔غروبِ آفتاب کے بعد عازمینِ حج مزدلفہ روانہ ہوں گے جہاں وہ کھلے آسمان تلے رات گزاریں گے۔ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی جائیں گی جبکہ جمرات کو کنکریاں مارنے کیلئے کنکریاں بھی جمع کی جائیں گی۔10 ذوالحجہ کو حجاج دوبارہ منیٰ واپس پہنچیں گے جہاں بڑے شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد قربانی اور حلق یا قصر کیا جائے گا جس کے بعد احرام کھول دیا جائے گا۔ بعد ازاں حجاج مسجد الحرام جا کر طوافِ زیارت ادا کریں گے۔سعودی حکومت نے شدید گرمی اور گردوغبار کے خدشات کے پیش نظر حجاج کے تحفظ اور سہولت کیلئے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔
میدان عرفات اور اطراف میں سایہ دار شیڈز، جدید کولنگ فینز اور پانی کی پھوار والے سسٹمز نصب کیے گئے ہیں تاکہ درجہ حرارت کم رکھا جا سکے۔حکام کے مطابق حجاج کی آسانی کیلئے خصوصی راہداریاں بھی تیار کی گئی ہیں جنہیں جدید اور نرم مٹیریل سے بنایا گیا ہے تاکہ پیدل چلنے میں کم تھکن محسوس ہو۔