پانچ برسوں میں قومی سطح پر 0.2 فیصد جنگلاتی علاقہ میں توسیع، چھتیس گڑھ ، اترپردیش اور اڈیشہ سرفہرست
حیدرآباد ۔2 ۔ جولائی (سیاست نیوز) ملک میں جنگلات کے تحفظ کے ذریعہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کیلئے حکومت کی سطح پر اقدامات کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ جنگلاتی علاقوں میں درختوں کی کٹوائی کو روکنے پر حکومتوں کی جانب سے نہ صرف توجہ دی گئی بلکہ نئے علاقوں میں شجرکاری سے گرینری میں اضافہ کیا گیا۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ملک میں جنگلاتی علاقوں میں 0.2 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ ریاستوں کے اعتبار سے جنگلات کے تحفظ میں صورتحال مختلف ہے۔ چھتیس گڑھ ، اترپردیش اور اڈیشہ میں جنگلاتی علاقوں میں قابل لحاظ توسیع ہوئی ہے۔ ملک کی بعض شمال مشرقی ریاستوں میں جنگلاتی علاقوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے ۔ ملک میں ایک طرف جنگلاتی علاقوں کے تحفظ کے لئے شعور بیداری مہم جاری ہے تو دوسری طرف صنعتوں کے قیام کے سلسلہ میں درختوں کی کٹائی نے جنگلاتی علاقوں کے رقبہ میں کمی کردی ہے۔ ملک کی وہ ریاستیں جہاں پہلے سے گھنے جنگلات موجود ہیں، وہاں کی حکومتوں نے جنگلات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ سیاحت کو مربوط کرتے ہوئے شجرکاری مہم کا آغاز کیا۔ گزشتہ پانچ برسوں کے سروے کے مطابق چھتیس گڑھ میں 0.6 فیصد جنگلاتی علاقہ کو توسیع دی گئی جبکہ اترپردیش میں 0.55 فیصد اور اڈیشہ میں 0.5 فیصد جنگلاتی علاقے میں اضافہ ہواہے۔ ماؤسٹ سے متاثرہ علاقوں میں سیکوریٹی فورسس کی جانب سے ماؤسٹ سرگرمیوں کو کچلنے کیلئے جو مہم شروع کی گئی ، اس کے نتیجہ میں جنگلاتی تحفظ پر توجہ نہیں دی گئی۔ اب جبکہ ملک میں ماؤسٹ سرگرمیوں کا عملاً صفایا ہوچکا ہے ، لہذا مرکزی حکومت نے بھی جنگلات کے تحفظ کیلئے ریاستوں کو اقدامات کی ہدایت دی ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں تلنگانہ میں 0.25 فیصد اور آندھراپردیش میں 0.3 فیصد جنگلاتی علاقہ میں اضافہ ہوا ہے۔ جنگلات کے تحفظ کے معاملہ میں جن ریاستوں سے منفی رپورٹ ہے، ان میں لداخ ، مدھیہ پردیش، بہار، میگھالیہ ، اروناچل پردیش ، آسام ، ناگالینڈ اور تریپورہ شامل ہیں۔1/k/m/b