کئی تعلیمی ادارے شدید مالی بحران کا شکار ، مختلف زمروں کے تحت تقریباً ڈھائی کروڑ وصول طلب
نظام آباد۔13 مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) متحدہ ضلع نظام آباد و کاماریڈی میں فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالرشپ کی رقم گزشتہ ڈھائی برسوں سے جاری نہ کیے جانے کے باعث خانگی ڈگری اور جونیئر کالجس شدید مالی بحران کا شکار ہوگئے ہیں، جبکہ ہزاروں طلبہ کا تعلیمی مستقبل بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوتا جارہا ہے۔ کالج انتظامیہ کے مطابق حکومت کی جانب سے واجب الادا رقومات کی عدم ادائیگی کے سبب کئی تعلیمی ادارے بند ہوچکے ہیں اور کئی ادارے معاشی دباؤ کے تحت اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔واضح رہے کہ آنجہانی سابق چیف منسٹر ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے دور حکومت میں غریب اور متوسط طبقہ کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے مقصد سے فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کا آغاز کیا گیا تھا۔ اس اسکیم کے تحت ہزاروں طلبہ نے انجینئرنگ، ڈگری، فارمیسی، میڈیکل اور دیگر پیشہ ورانہ کورسس میں تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد سابق حکومت نے بھی اس اسکیم کو جاری رکھا، جبکہ موجودہ کانگریس حکومت میں بھی اسکیم برقرار ہے، تاہم رقومات کی بروقت اجرائی نہ ہونے کے سبب اس کا مقصد متاثر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ذرائع کے مطابق متحدہ ضلع نظام آباد و کاماریڈی میں ٹوکن اماؤنٹ کے تحت تقریباً ایک کروڑ ساٹھ لاکھ روپے خانگی کالجس کو واجب الادا ہیں، جبکہ نان ٹوکن زمرے میں مزید تقریباً 100 کروڑ روپے زیر التوا بتائے جارہے ہیں۔ کالج انتظامیہ گزشتہ ڈھائی برسوں سے مسلسل متعلقہ محکمہ جات، عوامی نمائندوں اور حکومت سے نمائندگی کرتے آرہے ہیں۔ کئی مرتبہ احتجاجاً کالجس بند بھی رکھے گئے، تاہم حکومت کی جانب سے تیقن کے باوجود مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے۔تعلیمی حلقوں کے مطابق متحدہ ضلع میں پہلے تقریباً 61 خانگی ڈگری اور جونیئر کالجس سرگرم تھے، لیکن مالی بحران کے باعث اب تک تقریباً 30 کالجس بند ہوچکے ہیں۔ کئی ادارے اساتذہ کی تنخواہیں ادا کرنے، عمارتوں کے کرایہ، بجلی بل اور دیگر انتظامی اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہیں۔ بعض کالجس نے نئے داخلے محدود کردیے ہیں، جبکہ کئی ادارے بینک قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب طلبہ کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ فیس ری ایمبرسمنٹ کے تحت داخلہ لینے والے کئی طلبہ اپنی تعلیم مکمل کرچکے ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے فیس ادا نہ کیے جانے کے سبب بعض کالجس اسناد اور میمو جاری کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث طلبہ اعلیٰ تعلیم، روزگار اور بیرونِ ریاست یا بیرونِ ملک داخلوں کے مواقع سے محروم ہورہے ہیں۔حال ہی میں حکومت نے ایک سرکاری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے فیس ری ایمبرسمنٹ کی رقم براہِ راست طلبہ کے بینک کھاتوں میں جمع کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم کالج انتظامیہ بتایا کہ اس طریقہ کار سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق اگر رقم طلبہ کے اکاؤنٹ میں منتقل کردی جائے تو بعد میں کالجس کو طلبہ سے فیس وصول کرنے میں دشواری پیش آسکتی ہے، اور کئی طلبہ رقم واپس کرنے سے گریز بھی کرسکتے ہیں، جس سے تعلیمی اداروں کے مالی مسائل مزید سنگین ہوجائیں گے۔تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم دراصل غریب، دیہی اور پسماندہ طبقات کے طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کا واحد سہارا ہے۔ اگر حکومت اس اسکیم کو مؤثر انداز میں نافذ نہ کرے تو ریاست میں اعلیٰ تعلیم کا نظام متاثر ہوسکتا ہے۔ ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خانگی تعلیمی ادارے ریاست کے تعلیمی نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور لاکھوں طلبہ کو تعلیم فراہم کررہے ہیں، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر زیر التوا رقومات جاری کرتے ہوئے تعلیمی اداروں اور طلبہ کو بحران سے نکالنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے۔اقلیتی زمرے میں بھی صورتحال تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ متحدہ ضلع میں اقلیتی طلبہ کی فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالرشپ کی تقریباً 30 کروڑ روپے کی رقم زیر التوا ہے، جن میں صرف نظام آباد ضلع کیلئے تقریباً 27 کروڑ روپے جبکہ کاماریڈی ضلع کے لیے تقریباً تین کروڑ روپے شامل ہیں۔ کالج انتظامیہ اور تعلیمی تنظیموں نے حکومت سے فوری فنڈز جاری کرنے کا پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مزید تعلیمی ادارے بند ہونے کا خدشہ ہے، جس سے ہزاروں طلبہ کا مستقبل تاریک ہوسکتا ہے۔