8 برسوں میں 16 کالجس ریاست نے قائم کئے، ہر ضلع میں ایک میڈیکل کالج رہے گا
حیدرآباد۔/28 اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کے ساتھ ناانصافیوں کے مسئلہ پر نریندر مودی حکومت کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے نئے میڈیکل کالجس کی منظوری کے معاملہ میں مرکز کی ناانصافی پر ٹوئیٹ کیا ہے۔ کے ٹی آر نے ٹوئٹر پر لکھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے تلنگانہ کیلئے کتنے میڈیکل کالجس منظور کئے ہیں اس کی تفصیلات پیش کرتا ہوں۔ کے ٹی آر نے بڑا صفر پیش کرکے بتایا کہ تلنگانہ کیلئے ایک بھی نیا میڈیکل کالج منظور نہیں کیا گیا۔ انہوں نے لکھا کہ چیف منسٹر کے سی آر نے تلنگانہ میں میڈیکل ایجوکیشن کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ 2014 سے قبل 67 برسوں میں تلنگانہ صرف 5 میڈیکل کالجس قائم کئے گئے جبکہ گزشتہ آٹھ برسوں میں 16 نئے میڈیکل کالجس کی منظوری دی گئی اور 13 مزید کالجس قائم ہونگے جس کے تحت ہر ضلع میں ایک میڈیکل کالج ہوگا۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ ونپرتی، راما گنڈم اور جگتیال کے میڈیکل کالجس تکمیل کے مرحلہ میں ہیں جبکہ سوریا پیٹ ، محبوب نگر، سدی پیٹ اور نلگنڈہ کے میڈیکل کالجس نے کارکردگی کا آغاز کردیا ہے جلد کتہ گوڑم میں میڈیکل کالج کے افتتاح کا اعلان کیا۔ واضح رہے کہ کے ٹی راما راؤ تلنگانہ سے مرکز کی ہر شعبہ میں ناانصافیوں کو مسلسل اُجاگر کررہے ہیں۔ بی جے پی کی فرقہ پرست سیاست کے خلاف بھی کے ٹی آر نے ٹوئٹر پر مورچہ کھول دیا ۔ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی کی تقریب میں ہفتہ کو کے ٹی آر نے بی جے پی کی نفرت پر مبنی مہمات کا حوالہ دیتے ہوئے سخت تنقید کی۔ر