فکر معاش ماتم دل اور خیال یار
تم سب سے معذرت کہ طبیعت اداس ہے
وزیر اعظم نریندر مودی نے کل حیدرآباد میں تقریر کرتے ہوئے عوام کو جو مشورے دئے ہیں ان سے ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے ۔ وزیر اعظم نے ملک کے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ آئندہ ایک برس تک سونا نہ خریدیں۔ پٹرول اور ڈیزل کے استعمال میںکفایت سے کام لیں۔ بیرونی دورے اور بیرونی ممالک میںشادیوں سے ممکنہ حد تک گریز کیا جائے ۔ وزیر اعظم نے ان اقدامات کو حب الوطنی سے جوڑنے کی بھی کوشش کی تھی اور کہا تھا کہ صرف کسی کا سرحد پر قوم کیلئے جان دینے کیلئے تیار رہنا ہی حب الوطنی نہیں ہوتی بلکہ مشکل وقت میں ذمہ دارانہ طرز عمل بھی حب الوطنی کی مثال ہی ہے ۔ ملک میں جو حالات حالیہ عرصہ میں پیدا ہوئے ہیں انہوں نے عوام پر لگاتار مالی بوجھ عائد کردیا ہے ۔ عوام کی زندگیاں مشکل ترین حالات سے پہلے ہی گذر رہی ہیں۔ ملک میں جو معاشی نظام ہے اس نے حالانکہ ملک کو ترقی دلانے میں اہم رول ادا کیا ہو لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہی ہے کہ اس ملک میں غریب عوام مزید غریب ہورہے ہیں اور امیر مزید امیر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ملک کی دولت کا بہت بڑا حصہ چند مٹھی بھر کارپوریٹس کے ہاتھ میں ہے اور ملک کے عوام کی بڑی اکثریت بنیادی ضروریات کی تکمیل کیلئے بھی جدوجہد کرنے پر مجبور ہوگئی ہے ۔ حالیہ عرصہ میںایران جنگ اور مشرق وسطی کی کشیدگی نے بھی ملک میںمشکل صورتحال کو اور بھی مشکل کردیا ہے اور عوام پر بالواسطہ طور پر معاشی بوجھ میںاضافہ ہوگیا ہے ۔ ہندوستان کے عوام کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے اور ایران جنگ نے اسٹاک مارکٹ میں جو تباہی مچائی ہے اس کے اثرات بھی عام زندگی پر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ اب وزیر اعظم کی جانب سے عوام کو جو مشورے دئے گئے ہیں اور ان مشوروں کو حب الوطنی سے جوڑا گیا ہے تو ملک میںمعاشی انحطاط یا دوسرے الفاظ میںمعاشی ایمرجنسی کے اندیشے پیدا ہونے لگے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ بیرونی زر مبادلہ بچانے کیلئے یہ مشورہ دیا گیا ہے ۔ تاہم اس مشورہ کے نتیجہ میں عوام میں ایک طرح کی بے چینی کی کیفیت ضرور پیدا ہوگئی ہے اور اس کے معیشت پر بھی اثرات مرتب ہونگے ۔
سونے کی تجارت بھی وزیر اعظم کے مشوروں کے بعد متاثر ہوسکتی ہے اور اس اپیل کے بعد سونے کے اسٹاکس کی قیمتوںمیںکمی آئی ہے ۔ اس کے علاوہ تیل کے استعمال میںاحتیاط کے مشوروں نے فیول کی قیمتوں میں اضافہ کے اندیشوںکو مزید واضح کردیا ہے ۔ یہ شبہات ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ کمرشیل گیس کی قیمتوںمیں تقریبا 35 فیصد کا اضافہ کرنے والی حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوںمیں بھی بھاری اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ ویسے بھی گذشتہ دنوںسے یہ تشہیر شروع کردی گئی ہے کہ تیل کمپنیوں کو یومیہ ایک ہزار کروڑ روپئے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ یہ واضح نہیں کیا گیا کہ جس دور میں بین الاقوامی مارکٹ میں تیل کی قیمتیں بہت کم تھیں اس وقت ملک میں تیل کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں کی گئی تھی اور اس کے ذریعہ کتنے لاکھ کروڑ روپئے کی کمائی کی گئی ہے ۔ کمرشیل گیس کی قیمتوں میںاضافہ کے نتیجہ میں بالواسطہ طور پر ہی سارا بوجھ عوام پر عائد ہو جائے گا اور اگر فیول کی قیمتوں میںاضافہ ہوتا ہے تو یہ اضافہ مزید بڑھ کر ناقابل برداشت ہوسکتا ہے ۔ فیول کی قیمتوںمیںاضافہ کے نتیجہ میںضروریات زندگی کی ہر شئے مہنگی ہو جائے گی ۔ کمرشیل گیس کی قیمتوں میںاضافہ سے پہلے ہی کئی اشیاء مہینگی ہوگئی ہیں۔ حکومت صورتحال کو عوام کیلئے آسان بنانے کی بجائے عوام پر ہی سارا معاشی بوجھ منتقل کردینے کی پالیسی اختیار کر رہی ہے اور اس کے نتیجہ میں ملک میںحالات اور عوام کی مشکلات دونوں میںاضافہ کے اندیشے لاحق ہوگئے ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت پر معیشت کو مستحکم رکھنے میں ناکام ہوجانے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے ۔ حکومت کوئی جامع اور موثر حکمت عملی تیار کرنے اور درمیانی راستہ اختیار کرنے کی بجائے عوام پر بوجھ منتقل کرنے کی تیاری کر رہی ہے ایسے میںمعاشی انحطاط یا معاشی ایمرجنسی جیسے حالات کے اندیشے بے بنیاد نہیںہوسکتے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت سارا بوجھ عوام پر منتقل کرنے کی بجائے ایسے اقدامات کرے جن کے نتیجہ میں عوام پر بوجھ کو کم سے کم کیا جاسکے ۔ پہلے ہی سے جو عوام مسائل اور پریشانیوںکا شکار ہیںان پر مزید بوجھ عائد کرتے ہوئے ان کی زندگیوںکو اجیرن بنانے سے گریز کرنا چاہئے ۔