650 رکنی اسپیشل پروٹیکشن فورس کا خصوصی دستہ حفاظت پر مامور، 300 سی سی کیمروں کی تنصیب
حیدرآباد۔/20 اپریل، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کے نو تعمیر شدہ سکریٹریٹ کی سیکوریٹی پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے اور اس کی ذمہ داری ایس پی ایف کو سونپ دی گئی ہے۔ فی الوقت تقریباً 100 رکنی ایس پی ایف عملہ اس کی نگرانی کر رہا ہے۔ سکریٹریٹ کے افتتاح کے بعد 650 سے زیادہ ایس پی ایف کا دستہ تعینات کیا جائیگا۔ کئی اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس کے بعد سکریٹریٹ کی سیکوریٹی کی ذمہ داری ٹی ایس ایس پی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 350 سے زائد ٹی ایس ایس پی کے اہلکار تقریباً 300 آرمڈ ریزرو ( اے آر ) اور لاء اینڈ آرڈر پولیس سیکوریٹی کی نگرانی کریں گے۔ گاڑیوں کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے کیلئے 22 ٹریفک پولیس کو بھی تعینات کیا جارہا ہے۔ منتخب پولیس ملازمین کو پہلے ہی معین آباد میں انٹیگریٹیڈ انٹلیجنس ٹریننگ اکیڈیمی (IITA) میں تربیت فراہم کی گئی ہے۔ 23 یا 24 اپریل سے ان کی خدمات کا آغاز ہوگا۔ سکریٹریٹ پہنچنے والے عام لوگوں کو پیشگی اجازت کے بغیر اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں رہے گی۔ پیشگی اجازت کے بعد انہیں صرف متعلقہ بلاک تک جانے کی اجازت رہے گی۔ اس کیلئے انہیں داخلی راستہ پر بار کوڈ کے ساتھ پاس دیئے جائیں گے، وہ دوسرے بلاکس نہیں جاسکتے۔ ان تمام اُمور کی نگرانی حیدرآباد سٹی پولیس ڈپارٹمنٹ کریگی۔ سکریٹریٹ کے چاروں اطراف قائم سنٹرل پوسٹوں پر مسلح اہلکار پہرہ دیتے رہیں گے۔ داخلی راستوں پر دیگر دو سنٹری پوسٹوں پر بھی پہرے ہیں۔ اس کے علاوہ چیف منسٹر کے دفتر اور باب الداخلہ جیسے اہم علاقوں میں سیکوریٹی عہدیدار جدید ہتھیاروں سے لیس رہیں گے۔6 منزلہ سکریٹریٹ میں سیڑھیوں اور لفٹ کے پاس پولیس کا سخت بندوبست عملہ تعینات رہے گا۔ 300 سی سی کیمروں سے نظر رکھی جائیگی۔ ان مناظر کے مشاہدے کیلئے خصوصی کمانڈ کنٹرول سنٹر بھی قائم کیا گیا ہے۔ جانچ کیلئے جدید باڈی، بیاگیج، اور گاڑیوں کے اسکیانرس دستیاب کرائے گئے ہیں۔ آگ پر قابو پانے کیلئے دو فائر بریگیڈ اور 34 ملازمین کی خدمات سکریٹریٹ کے احاطے میں رکھی جائیں گی۔ن