نظام تعلیم پر راہول گاندھی کا بیان

   

قائد اپوزیشن راہول گاندھی ویسے تو ہر مسئلہ پر آر ایس ایس کی مخالفت اور شدت سے اظہار خیال میں کبھی کوئی عار محسوس نہیںکرتے اور وہ سنگھ کے خلاف بیان بازی کرتے رہتے ہیں۔ چاہے پارلیمنٹ کے ایوان میں ہو یا پھر ایوان کے باہر ہو وہ اپنے تبصروں سے گریز نہیں کرتے ۔ لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک بل کے خلاف مباحث چل رہے ہیں۔ راہول گاندھی نے قائد اپوزیشن کی حیثیت سے آج ان مباحث میں حصہ لیا ۔ انہوں نے اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ملک کی وزارت تعلیم کو در اصل آر ایس ایس کی جانب سے چلایا جا رہا ہے ۔ راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس ہی وزارت تعلیم چلا رہی ہے اور ملک کے طلباء کو ہندوستان میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع نہیں دئے جا رہے ہیں۔ انہیں وہ کچھ کہنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے جو وہ کرنا چاہتے ہیں۔ طلباء کو سوال پوچھنے تک کی بھی آزادی نہیں ہے ۔ راہول گاندھی یہ بھی کہنا تھا کہ طلباء کو وہ بیوقوفانہ تاریخ بتائی جا رہی ہے جو آر ایس ایس پھیلانا چاہتی ہے ۔ سارے نظام تعلیم کو اس طرح کی شکل دیدی گئی ہے کہ یہ غریبوں سے رقومات لوٹ رہے ہیں۔ ملک کے ہر بڑے تعلیمی ادارے کی قیادت آر ایس ایس ورکرس کو سونپ دی گئی ہے ۔ راہول گاندھی نے اپنی تقریر میں طلباء کے احتجاج اور ان کے خلاف کی گئی کارروائیوں پر بھی تبصرے کئے اور یہ دعوی کیا کہ ملک کے وزیر داخلہ نے ہی طلباء کے خلاف طاقت کے استعمال اور آنسو گیس کے شیلس داغنے اور پیلٹ گن استعمال کرنے کی ہدایت دی تھی ۔ بی جے پی ارکان کی جانب سے اس الزام پر شدید اعتراض کیا گیا اور راہول گاندھی کی تقریر میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش بھی کی گئی ۔ مرکزی وزیر کرن رجیجو نے بھی راہول گاندھی کے ان ریمارکس کی مذمت کی اور کہا کہ وزیر داخلہ کے خلاف اس طرح کے ریمارکس نہیں کئے جانے چاہئیں۔ اسپیکر لوک سبھا اوم برلا نے بھی راہول گاندھی کے کچھ الفاظ اور ریمارکس پر تحفظات کا اظہار کیا ۔ ایوان میں کچھ دیر کیلئے ہنگامہ بھی ہوا ۔
راہول گاندھی کے دیگر ریمارکس سے قطع نظر جہاں تک نظام تعلیم پر آر ایس ایس کے غلبہ کا سوال ہے تو حقیقت ہے کہ ملک میں ہر اہم تعلیمی ادارے کی ذمہ داری یا پھر قیادت آر ایس ایس کو سونپ دی گئی ہے ۔ تعلیم کے شعبہ کو کسی نظریاتی یاسیاسی سوچ سے آزاد رکھنے کی پالیسی اور روایت کو ترک کردیا گیا ہے اور ایک مخصوص سوچ کو مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ آر ایس ایس قائدین اور اسے وابستہ افراد لگاتار یہ کہنے سے گریز نہیں کرتے کہ وہ اپنے مطابق ملک کی تاریخ لکھنا چاہتے ہیں۔ تاحال تعلیمی اداروں میں جو تاریخ پڑھائی جاتی رہی ہے اس سے آر ایس ایس کو اتفاق نہیں ہے اور وہ مختلف واقعات کو اپنے انداز میں توڑ مروڑ کر پیش کرنے میںہی یقین رکھتے ہیں۔ یہ بھی شبہات ظاہر کئے جاتے ہیں کہ تعلیمی اداروں اور جامعات میں جو تقررات کئے جاتے ہیں وہ بھی ایک مخصوص سوچ و فکر کو پیش نظر رکھ کر کئے جاتے ہیں اور اسی سوچ اور نظریہ سے اتفاق کرنے اور اسے آگے بڑھانے والوں کو ہی مواقع دئے جاتے ہیں۔ جو لوگ معیاری تعلیم ‘ مساوی مواقع اور بہتر ماحول فراہم کرنے میں یقین رکھتے ہیں انہیں مواقع فراہم کرنے سے گریز کیا جاتا ہے ۔ اسی کے نتیجہ میں ملک کا تعلیمی نظام متاثر ہوا ہے ۔ حالیہ چند برسوں میں کئی ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن کو قابل تشویش کہا جاسکتا ہے ۔ نظام تعلیم کو کسی مخصوں سوچ یا نظریہ سے دور رکھتے ہوئے محض تعلیم تک محدود رکھا جانا چاہئے ۔
تعلیمی اداروں میں کھلے ماحول اور آزاد فضاء ہونی چاہئے جہاں طلباء اپنی ذہنی سوچ کے مطابق نئی اختراعات پر توجہ دے سکیں‘ ملک کا نام ساری دنیا میں روشن کرسکیں۔ انہیں بہتر تعلیمی مواقع اور سہولیات فراہم کرنے پر توجہ دی جانی چاہئے ۔ محض کسی ایک نظریہ یا سوچ کا پابند نہیں بنایا جانا چاہئے ۔ حکومت کو تعلیمی شعبہ پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ اس شعبہ کو اس سوچ کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہئے کہ اسی کے ذریعہ ہندوستان ساری دنیا پر غلبہ حاصل کرسکتا ہے اور اپنا لوہا منواسکتا ہے ۔