والدین کی کفالت سے بچوں کی لاپرواہی ، تلنگانہ میں نیا قانون

   

جس نے چلنا سکھایا وہی دربدر ، رشتوں کا جنازہ
رشتوں کی ٹوٹتی بنیادیں ، معاشرے کیلئے لمحہ فکر
محبت مرگئی ، قانون زندہ ہوگیا ، بکھرتا ہوا خاندانی نظام

محمد نعیم وجاہت
تلنگانہ میں والدین کی کفالت کو قانونی دائرے میں لانے کا حالیہ اقدام محض ایک سرکاری پالیسی نہیں بلکہ ہمارے بدلتے ہوئے معاشرتی رویوں کا ایک واضح اور چونکا دینے والا عکس ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں ریاست کو اس خلاکو پُر کرنے کیلئے آگے آنا پڑا ہے جو کبھی خاندانی اقدار خود بخودپر کرلیا کرتے تھے۔ ایک وقت تھا جب والدین کی خدمت کو عبادت سمجھا جاتا تھا۔ جب گھر کے بزرگوں کا سایہ رحمت ہوتا تھا اور جب اولاد اپنی کامیابی کو والدین کی خوشی سے جوڑ کر دیکھتی تھی مگر آج کے دور میں تیزی سے بدلتی ترجیحات مصروف طرز زندگی اور مادی سوچ نے ان رشتوں کی کشش کو کمزور کردیا ہے۔ یہاں تک کہ کئی جگہوں پر یہ رشتے محض رسمی یا بوجھ بن کر رہ گئے ہیں۔ اسی پس منظر میں تلنگانہ حکومت نے Telangana Employees Accountibility and Monitoring جیسے قانون کا تصور پیش کیا ہے جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ اولاد اپنے والدین کی کفالت سے پہلوتہی نہ کریں۔ اگر وہ ایسا کرتی ہیں تو اس کی تنخواہ (سرکاری ملازمین) سے ایک حصہ کاٹ کر والدین کو دیا جاسکتا ہے۔ یہ اقدام بظاہر سخت معلوم ہوتا ہے مگر جب ہم زمینی حقائق پر نظر ڈالتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس سختی کے پیچھے کتنی گہری ضرورت چھپی ہوئی ہے۔ ملک میں پہلے سے Maintenance and Welfare of Parents and Senior Citizen Act-2007 موجود ہے، مگر اس کی کمزور عمل آوری نے اس کے اثر کو محدود کردیا اور اسی وجہ سے تلنگانہ کو ایک زیادہ موثر اور قابل عمل نظام کی طرف بڑھنا پڑا۔ یہ قانون کسی خیالی مسئلہ کا حل نہیں بلکہ ان کی حقیقی واقعات کا جواب ہے۔ جو روزمرہ زندگی میں پیش آرہے ہیں اور جنہیں سن کر دل دہل جاتا ہے۔
ریاست تلنگانہ کے ضلع ناگرکرنول میں جب ایک ضعیف ماں نے اپنا گھر فروخت کرنے سے انکار کیا تو اس کے اپنے ہی بیٹے نے اُسے گھر سے باہر نکال دیا۔ یہ واقعہ صرف ایک فرد کی بے حسی نہیں بلکہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ آہستہ آہستہ خودغرضی معاشرے میں جڑ پکڑ رہی ہے۔ حیدرآباد کے آصف نگر علاقے میں واقع مراد نگر میں ایک بیٹی نے اپنی مرحوم ماں کی وصیت کا بھی خیال نہیں رکھا۔ اپنے بوڑھے باپ کو گھر سے بے دخل کردیا اور اگر ضلعی انتظامیہ مداخلت نہ کرتا تو شاید وہ باپ سڑک پر آجاتا۔ شہر کے موسیٰ رام باغ میں ایک اور ضعیف ماں کو اس کے بیٹے نے گھر سے باہر کردیا اور وہاں بھی سرکاری مداخلت کے بعد ہی اُسے انصاف مل سکا۔ نارسنگی میونسپلٹی میں پیش آنے والا واقعہ تو اور بھی زیادہ تکلیف دہ ہے جہاں بیٹوں نے سوشل پینشن میں اضافہ کا جھانسہ دے کر اپنے ضعیف والدین سے کاغذات پر دستخط کروالئے اور ان کا گھر فروخت کردیا جبکہ بہن نے بھی اس ظلم میں بھائیوں کا ساتھ دیا۔ ضلع جگتیال میں ایک بیٹی نے اپنی بوڑھی ماں سے کھیت اپنے نام کروانے کے بعد اسے رات کے اندھیرے میں جنگل میں چھوڑ دیا اور ضلع کریم نگر کے شنکر پٹنم میں بیٹیوں نے 80 سالہ ضعیف ماں کو سڑک پر چھوڑ دیا۔ یہ واقعات صرف خبریں نہیں ہے بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہیں کہ آخر ہم کس سمت جارہے ہیں ۔ اعداد و شمار بھی اس مسئلہ کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ گزشتہ سال فروری تک تلنگانہ کے سرکاری پورٹل میں ایسے 3308 کیسیس درج کئے گئے تھے اور یہ صرف وہ کیسیس ہیں جو رپورٹ ہوئے۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ سنگین ہوسکتی ہے کیونکہ بے شمار ایسے واقعات ہیں جو کبھی منظر عام پر ہی نہیں آتے۔ ایسے حالات میں اگر حکومت ایک مضبوط قانون متعارف کراتی ہے تو اسے مداخلت نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھنا چاہئے۔ یہ بات درست ہے کہ محبت، احترام اور خلوص کو قانون کے ذریعہ پیدا نہیں کیا جاسکتا مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ قانون کے ذریعہ ناانصافی کو روکا جاسکتا ہے۔ اگر کوئی اولاد اپنی اخلاقی ذمہ داری نبھانے میں ناکام ہوجائے تو اسے قانونی طور پر پابند بنانا ضروری ہوجاتا ہے۔ معاشرے میں دیگر ذمہ داریوں کی طرح جیسے ٹیکس ادا کرنا یا قوانین کی پابندی، والدین کی کفالت کو بھی ایک بنیادی فرض کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہئے۔ تلنگانہ حکومت کا یہ اقدام اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس نے اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لیا اور اس کے حل کیلئے عملی قدم اُٹھایا۔ فی الحال یہ قانون سرکاری ملازمین تک محدود ہے۔ اگر مستقبل میں اس کا دائرہ خانگی شعبے تک بھی وسیع کیا جائے تو اس کے اثرات کہیں زیادہ وسیع اور موثر ہوسکتے ہیں کیونکہ والدین کی خدمت کسی ایک طبقے تک محدود نہیں ہے بلکہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ یہ قانون دراصل ایسا پیغام ہے جو معاشرے کو جھنجھوڑنے کیلئے کافی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ترقی صرف معاشی یا تیکنیکی نہیں ہوتی بلکہ اخلاقی اور انسانی اقدار کی مضبوطی بھی اس کا لازمی حصہ ہے۔ اگر ہم اپنے والدین کو عزت اور تحفظ فراہم نہیں کرسکتے تو ہماری تمام تر ترقی بے معنی ہوجاتی ہے۔ آخرکار یہ قانون ایک وقتی حل ضرور فراہم کرتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ ہمیں اپنے اندر جھانکنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم ایک ایسا معاشرہ بننا چاہتے ہیں جہاں والدین کو اپنے حقوق کیلئے عدالتوں اور سرکاری دفاتر کے چکر لگانے نہ پڑیں یا ایک ایسا معاشرہ جہاں محبت، احترام اور ذمہ داری اپنا فرض سمجھ کر ادا کی جائے، قانون اپنی جگہ ضروری ہے مگر اصل تبدیلی تب آئے گی جب ہم اپنے سلوک کو بدلیں گے۔ آج کے دور میں تیز رفتار شہری زندگی ، ملازمتوں کا دباؤ اور خودمختاری کی بڑھتی ہوئی خواہش نے مشترکہ خاندانی نظام کو کھوکھلا کردیا ہے، پہلے جہاں تین نسلیں ایک ہی چھت تلے رہتی تھیں، اب وہ روایت تیزی سے ختم ہورہی ہے اور اولڈ ایج ہومس کا بڑھتا ہوا رجحان اس تبدیلی کا ثبوت ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہوچکے ہیں جہاں رشتوں کی بنیاد جذبات سے زیادہ سہولت پر ٹکی ہوئی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی قانون والدین کے حقوق کی بات کرتا ہے تو وہ بلاشبہ ضروری معلوم ہوتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک انتباہ بھی ہے کہ ہم نے کہیں نہ کہیں اپنی بنیادی اقدار کو کھودیا ہے۔