اداکار سے سیاستدان بنے جوزف وجئے کے چیف منسٹر ٹاملناڈو بننے کی راہ ہموار ہوچکی ہے اور وہ درکار ارکان کی تعداد جٹانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ وجئے کی پارٹی ٹی وی کے کو جملہ 108 نشستیں انتخابات میںحاصل ہوئی تھیں اور کانگریس کے پانچ ارکان کی تائید بھی انہیں حاصل تھی ۔ اب وی سی کے اور دونوں کمیونسٹ پارٹیوں نے بھی وجئے کی تائید کا فیصلہ کردیا ہے اور انہیں اپنے تائیدی مکتوب بھی سونپ دئے ہیں۔ شائد اب ریاستی گورنر مسٹر ارلیکر کو وجئے کو تشکیل حکومت کی دعوت دینے میں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوگی ۔ وجئے کے پاس درکار ارکان کی تعداد موجود رہنے کے بعد ان کا چیف منسٹر ٹاملناڈو بننا تقریبا طئے ہوگیا ہے ۔ وجئے کی پیارٹی کو ٹاملناڈو کے اسمبلی انتخابات میں جو تائید حاصل ہوئی تھی وہ سبھی کیئے باعث حیرت تھی ۔ وجئے نے جس طرح سے عوامی مسائل پر مبنی منشور جاری کیا تھا اس نے ریاست کے عوام کو اپنی جانب راغب کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی ۔ عوام نے بڑی تعداد میں انہیں ووٹ دیا اور ٹاملناڈو کی روایتی دراوڑی پارٹیوں کو اقتدار سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ وجئے ٹاملناڈو کے ایک انتہائی مقبول عام فلم ادا کار ہیںاور ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ محض دو سال کے عرصہ میں ریاست کے عوام نے ان کی پارٹی کو سب سے بڑی سیاسی جماعت کا موقف دلادیا ہے ۔ وجئے کی پارٹی کو جن جماعتوں کی تائید حاصل ہوئی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست میںنئی سیاسی صف بندیاں ہوئی ہیں۔ اپنی قدیم حلیف جماعتوں کانگریس ‘ سی پی آئی ‘ سی پی ایم وغیرہ کے دوری اختیار کرلینے کی وجہ سے سابقہ برسر اقتدار جماعت ڈی ایم کے شدید ناراض ہے اور اس نے لوک سبھا میں بھی اب کانگریس کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کردینے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ یہ بھی ریاست میں نئی سیاسی صف بندی کا اشارہ ہے جو آئندہ کے انتخابات پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے ۔ کانگریس نے مستقبل کی سوچ کو ہی ذہن نشین رکھتے ہوئے قدیم حلیف ڈی ایم کے سے ترک تعلق کرنے اور وجئے کی پارٹی کی تائید کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اب کمیونسٹ جماعتیں بھی ساتھ آگئی ہیں۔
ٹاملناڈو میںوجئے کا اقتدار اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ ریاست میں جو نیا سیاسی اتحاد بنے گا وہ مستقبل میں لوک سبھا انتخابات میں بھی عوام کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے ۔ آئندہ پارلیمانی انتخابات سے قبل وجئے کی عوامی مقبولیت کا گراف کس حدتک بڑھتا ہے اور وہ کس حد تک اپنے انتخابی وعدوں کو پورا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیںاس بات کا بھی لوک سبھا انتخابات کے نتائج پر اثر ہوگا ۔ وجئے کا جو عوامی امیج ہے وہ بہت اہمیت والا ہے اور وہ عوام میں ایک ہمدرد شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ یہ وجئے کی کامیابی کا ہی نتیجہ تھا کہ ابتداء سے ایک دوسرے کی کٹر حریف رہنے والی جماعتیں ڈی ایم کے اور انا ڈی ایم کے نے بھی آپس میں اتحاد کرنے کی کوشش کی تھی ۔ اس سلسلہ میں باضابطہ پہل بھی ہوئی تھی تاہم وہ کسی نتیجہ پر نہیںپہونچ پائے اور وجئے نے تشکیل حکومت کیلئے درکار ارکان کیتعداد حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ۔ ڈی ایم کے کیلئے جس طرح سے انا ڈی ایم کے سے اتحاد کے امکانات کا جائزہ لینا سیاسی مجبوری بن گئی تھی اسی طرح سے کانگریس کیلئے بھی یہ سیاسی مجبوری ہی تھی کہ وہ وجئے کا ساتھ دے تاکہ ٹاملناڈو میں کسی بھی طرح سے بی جے پی اقتدار میںحصہ دار نہ بن پائے ۔ کانگریس نے تائید کا اعلان کرتے ہوئے واحد شرط یہی رکھی تھی کہ فرقہ پرست طاقتوں کو اقتدار سے دور رکھنا ہوگا ۔ یہ سیاسی مجبوری ریاست میں نئی سیاسی صف بندی کی نقیب بن گئی ہے اور یہ آئندہ کے حالات پر بھی اثر انداز ہوگی ۔
ایک دور تھا جب اترپردیش جیسی ملک کی سب سے بڑی ریاست میں سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی ایک دوسرے کی کٹر حریف ہوا کرتی تھیں۔ تاہم بی جے پی سے مقابلہ کرنے کیلئے سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی نے بھی آپس میں اتحاد کیا تھا ۔ حالانکہ یہ اتحاد کامیاب نہیں ہوا تھا اسی طرح ڈی ایم کے نے بھی انا ڈی ایم کے سے اتحاد کی کوشش کی تھی لیکن یہ کوشش بھی ناکام رہی ہے ۔ کانگریس نے سیاسی حالات کو جتنا جلد سمجھ لیا تھا اتنی جلدی ڈی ایم کے سمجھنے میں کامیاب نہیںرہی ۔ وجئے کا اقتدار اب طئے ہے اور یہ امید کی جاسکتی ہے کہ نئے سیاسی ماحول میں وہ عوامی بہتری کیلئے اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھیں گے ۔