ٹاملناڈو ‘ نئی جماعت ‘ امکانات

   

تجھے اے نوجواں ایسا جہاں تیار کرنا ہے
اسی کوشش میں جینا ہے اسی کوشش میں مرنا ہے
ٹاملناڈو میں بالآخر بی جے پی کے سابق ریاستی صدر کے انا ملائی نے بی جے پی سے استعفی پیش کردیا ہے اور انہوں نے نئی سیاسی تحریک شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ وہ آئندہ عام انتخابات میں ٹاملناڈو میں مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ کے انا ملائی بی جے پی کے حالیہ اسمبلی انتخابات میں آل انڈیا انا ڈی ایم کے کے ساتھ اتحاد سے خوش نہیں تھے اور ان کا کہنا تھا کہ آل انڈیا انا ڈی ایم کے کے ساتھ اتحاد کے نتیجہ میں بی جے پی کے ووٹ شئیر میں کمی آئی ہے ۔ اسمبلی انتخابات سے قبل انہوں نے تنہا مقابلہ کرنے کا بی جے پی کی اعلی قیادت کو مشورہ دیا تھا تاہم پارٹی قیادت نے اتحاد کے حق میں فیصلہ کیا تھا ۔ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کوئی کامیابی حاصل نہیں کرپائی اور اس کا محض ایک رکن اسمبلی منتخب ہوا ہے ۔ ان نتائج کے بعد سے کے انا ملائی اپنے مستقبل کے منصوبوں کے تعلق سے فکرمند تھے اور انہوں نے اپنے لئے علیحدہ راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ٹاملناڈو کی جو سیاست رہی ہے وہ محض دو جماعتوں تک محدود رہی تھی ۔ کبھی آل انڈیا انا ڈی ایم کے کو اقتدار حاصل ہوا کرتا تو کبھی ڈی ایم کے اقتدار پر قابض ہوجاتی ۔ تقریبا چار دہوں کے وقفہ کے بعد ریاست میں ایک نئی سیاسی جماعت وجود میں آئی ۔ سابق اداکار سی جو زف وجئے نے اسمبلی انتخابات سے محض دو سال قبل نئی جماعت تشکیل دی اور پھر انہوںنے انتخابات میں مقابلہ کیا ۔ انہوں نے جو تاریخی کامیابی درج کی ہے اس سے ٹاملناڈو کی سیاست ایک نئے راستے پر چل پڑی ہے ۔ دونوں روایتی جماعتوںکو ریاست کے عوام نے مسترد کردیا ہے اور ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا تھا ۔ اس صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے کے انا ملائی نے بھی اپنی سیاسی قسمت آزمائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ لوک سبھا انتخابات کو اب بھی دو سال سے زائد کا عرصہ باقی ہے اور ابھی سے انہوں نے سیاسی تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔ تاہم سیاسی حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ چونکہ نئی جماعت ٹی وی کے کو عوام نے اپنی تائید فراہم کردی ہے اور ابھی اس کی حکومت قائم ہوچکی ہے ایسے میں نئی جماعت پر کیا رد عمل ہوگا یہ ابھی کہا نہیںجاسکتا ۔
ٹاملناڈو کی سیاست میں جو روایات رہی ہیں ان کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ایک نئی جماعت کے ساتھ ریاست کے عوام نے تجربہ کیا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں جوزف وجئے ریاست کے چیف منسٹر بن گئے ہیں تاہم ایک اور نئی جماعت کا تجربہ شائد اس حد تک کامیاب نہیں ہو پائے گا جتنا جوزف وجئے کی پارٹی کامیاب ہوئی ہے ۔ ایک تجربہ کامیاب ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیںہوسکتا کہ دوسرا تجربہ بھی کامیاب رہے گا۔ جہاںتک وجئے کا سوال ہے تو وہ ٹامل فلم انڈسٹری کے سوپر اسٹار تھے ۔ عوام میں ان کی مقبولیت تھی ۔ وہ فلموں کے ذریعہ عوام کے ذہنوں تک رسائی حاصل کرچکے تھے ۔ ٹاملناڈو کی سیاسی روایت رہی ہے کہ فلمی شخصیتیں آسانی کے ساتھ اقتدار تک پہونچی ہیں اور عوام نے انہیں پسند بھی کیا ہے ۔ ایم جی رامچندرن سے لے کر کروناندھی تک اور پھر جئے للیتا تک کئی قائدین کا پس منظر فلمی ہی رہا ہے ۔ ان کی فلمی مقبولیت کو سیاسی مقبولیت میں تبدیل کرنے میںزیادہ مشکل پیش نہیں آئی ہے ۔ جہاں تک کے انا ملائی کا سوال ہے تو ان کا کوئی فلمی پس منظر نہیں رہا ہے ۔ وہ عوامی مسائل کی بنیاد پر تحریک شروع کرنا چاہتے ہیں۔ ریاست میں ایک نئی حکومت قائم ہوئے چند ہی دن ہوئے ہیں۔ جب تک لوک سبھا انتخابات ہونگے اس وقت تک حکومت کی نصف معیاد پوری ہوسکتی ہے ۔ اس دوران بھی حکومت سے عوام کی بیزاری کے امکانات زیادہ نہیںرہتے ۔ ایسے میں انا ملائی کی سیاسی تحریک کی کامیابی کے تعلق سے فی الحال زیادہ کچھ امیدیں نہیں بندھ سکتیں۔
اپنی حکومت کے ابتدائی چند ہی ایام میں چیف منسٹر جوزف وجئے نے جو اشارے دئے ہیں وہ ریاست کے عوامی موڈ کے مطابق ہی دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ عوام کی بہتری کے اقدامات پر توجہ کے ساتھ کام کرنے کے اشارے دے رہے ہیں۔ ایسے میں حکومت کے تعلق سے عوام میں بیزاری پیدا ہونے کے فی الحال کوئی آثار دکھائی نہیںدے رہے ہیں۔ آئندہ دو تا ڈھائی سال کے عرہص میں کیا کچھ صورتحال رہے گی اس تعلق سے بھی ابھی کچھ کہا نہیںجاسکتا ۔ بہر حال انا ملائی نے ایک نئی سیاسی شروعات کی ہے ۔ ان کیلئے سفر وجئے کی طرح آسان نہیں ہوسکتا ۔ انہیں پیچیدہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔