ٹیکا، جھومر اور ماتھا پٹی

   

شادی بیاہ کی تقریبات ہوں یا ہمارے خوشیوں بھرے تہوارکپڑوں سے لے کر جیویلری کی خریداری بہت دل لگا کر کی جاتی ہے ۔جدید فیشن نے جہاں لباس کو نئی ندرت بخشی وہیں ڈیزائنرز کی انتھک محنت سے زیورات میں بھی نئی جدت سامنے لائی گئی۔ فینسی کاٹن سوٹ کے علاوہ یہ شیفون اور سلک کے بھاری، کامدار دیدہ زیب ملبوسات کے لوازمات ہیں، گویا جیویلری کے بغیر کسی بھی تقریب میں جانے کیلئے کی گئی تیاری ادھوری لگتی ہے۔ زمانہ قدیم سے صنف نازک اپنے حسن کو چار چاند لگانے کیلئے خود کو زیورات سے مزین کرتی چلی آ رہی ہیں ، یہ ہی وجہ ہے کہ دور چاہے کوئی بھی ہو ان کی اہمیت اور مانگ میں کمی واقع نہیں ہو سکی۔اس میں کوئی شک بھی نہیں اسی لئے عورت اور زیورات کو لازم و ملزوم سمجھا جاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ آنکھوں کو خیرہ کر دینے والے یہ زیورات ہی، حسن کو نکھار بخشتے ہیں۔ ویسے تو سر سے پیر تک پہنے جانے والے گہنوں کی مختلف اقسام ہیں۔تاہم جیویلری کی ابتداء سر اور ماتھے کو سجانے سے کی جاتی ہے۔ان میں ٹیکا، جھومر اور ماتھا پٹی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ایک زمانے میں یہ گہنے صرف دلہنوں اور سہاگنوں کیلئے مخصوص سمجھے جاتے تھے تاہم گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ جہاں دوسرے رسم و رواج میں تبدیلی لائی گئی۔وہیں فیشن کی دنیا میں ایک نئی ہلچل مچی اور ماڈلز کی دیکھا دیکھی لڑکیوں بالیوں نے بھی خاص خاص موقعوں پر ٹیکا، جھومر اور ماتھا پٹی لگانا شروع کر دی۔ خاص طور پر مہندی، مایوں، شادی کی تقریب میں شام کی دعوت یا تہوار میں ہونے والی بڑی دعوتوں میں خواتین کے علاوہ لڑکیاں بھی اپنے سوٹ کی مناسبت سے ان زیورات کو شوق سے پہنتی ہیں کوئی ٹیکا لگاتا ہے تو کوئی چھوٹی سی بندیا پسند کرتا ہے، کسی لڑکی نے اپنے نگوں سے مرصع سوٹ پر صرف جھومر لگانے پر اکتفا کیا ہوتا ہے۔ماتھا پٹی بھی روایتی انداز سے ہٹ کر جدید فیشن میں تبدیل ہو گئی ہے، ایسے نازک نازک ڈیزائن میں بنائی جا رہی ہے کہ کم عمر لڑکیوں پر بھی سجتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رنگوں، روشنیوں اور جھلملاہٹوں کا سیلاب اپنے اندر چھپائے نئی طرز پر ڈھالے گئے یہ زیور جب کسی کے ماتھے پر سجائے جاتے ہیں تو وہ ایک دم خاص دکھائی دینے لگتی ہے۔مغلیائی دور کی یاد دلاتی ہوئی ایسی جیویلری کو خواتین میں خاص مقبولیت حاصل ہو گئی اور اسی وجہ سے یہ ایک بار پھر فیشن میں ان ہو گئیں۔
ٹیکا : ٹیکا وہ زیور ہے جو ماتھے پر سجایا جاتا ہے۔ پہلے یہ صرف سونے اور چاندی سے ہی بنائے جاتے تھے، خاص طور پر چاند ستارے والا ٹیکا دلہنوں کیلئے مخصوص ہوتا تھا۔تاہم آجکل تو آرٹیفشل ٹیکے بھی بہت خوبصورت اور دیدہ زیب ڈیزائن میں دستیاب ہیں۔یہ مختلف نگوں سے مزین عموماً جڑاؤ پسند کیے جاتے ہیں۔ٹیکے کے نیچے موتیوں اور کرسٹل کی جھالریں بھی نفاست سے لٹکائی جاتی ہیں۔آج کل گول بڑی سی ٹکی والی بندیا پسند کی جارہی ہے جو خاص طور پر بیضوی چہرے یا چوڑے ماتھے پر بہت اچھی لگتی ہیں۔ ٹیکے مختلف سائز کے ساتھ ساتھ کئی اشکال میں بھی دستیاب ہیں، جو حسن کو دو آتشہ بنا ڈالنے کا مکمل انتظام کیے جا رہے ہیں۔
ماتھا پٹی : ماتھا پٹی کا فیشن دوبارہ رائج ہو گیا ہے۔ماضی میں ماتھا پٹی صرف دلہنوں یا شادی شدہ خواتین ہی لگایا کرتی تھی۔تاہم اب روایتی انداز سے ہٹ کر ان میں اس طرح سے نزاکت پیدا کر دی گئی ہے کہ اسے لڑکیاں بھی لگانا پسند کر رہی ہیں۔ انڈین اسٹائل کی ماتھا پٹی میں نگینوں، پولکی اور کندن کا کام بڑا نفیس دکھائی دیتا ہے، جو مشرقی انداز کے شرارے، انگرکھے، انار کلی چوڑی دار اور ڈھاکا پائجامے، اپر کوٹ یا لانگ ٹیل شرٹ کے ساتھ میچنگ اور کنٹراسٹ ہر صورت میں نئے پن کا احساس دلاتی ہیں۔
جھومر : اس سال فانوس کی طرح لٹکنے والے جھومر کو بھی فیشن کی دنیا میں خاص پذیرائی حاصل ہوئی۔ شام کی تقریب میں لڑکیاں بالوں کو ایک سائیڈ پر بنوا کر جب ان پر جھومر فکس کرواتی ہیں تو بہت منفرد دکھائی دیتی ہیں۔ان کی تیاری میں موتیوں، کرسٹل کے علاوہ مختلف رنگوں کے جڑاؤ پتھروں کا استعمال ان کی دلکشی اور انفرادیت کو برقرار رکھتے ہیں ۔ زیورات بنانے والوں کی انتھک کوششوں نے جدید فیشن اختیار کرنے والوں کیلئے جیویلری میں جو نئے نئے تجربے کیے اس کا فائدہ ان خواتین اور لڑکیوں کو بھی پہنچا جو سونا مہنگا ہونے کی وجہ سے مصنوعی زیورات پر انحصار کرنے لگی ہیں۔آرٹیفشل زیورات کو ایک منفرد انداز بخشا گیا ہے۔ان کا غیر روایتی انداز اپنے اندر ایک نیا پن لئے ہوئے ہے۔