پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سے عام آدمی شدید متاثر

   

سنگاریڈی کے قریب کونڈہ پور منڈل میں فوڈ پروسیسنگ سکینڈ یونٹ کی سنگ بنیاد کے بعد ریاستی وزیر ڈی سریدھر بابو کی پریس کانفرنس

ll نیٹ امتحان ’نیشنل لیکیج ایجنسی‘ میں تبدیل
llمرکزی حکومت پر غیر دانشمندانہ فیصلہ کا الزام

سنگاریڈی ۔15 مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سنگاریڈی کے قریب کونڈہ پور منڈل کے توگر پلی میں کے جے ایس فوڈ پروسیسنگ سیکنڈ یونٹ کا سنگ بنیاد ڈی سریدھر بابو وزیر صنعت، دامودھر راج نرسمھا وزیر صحت، ایم رگھونندن راو، شریش کمار شیٹکار اراکین پارلیمنٹ، جگاریڈی ورکنگ پرسیڈنٹ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی، نرملا جگاریڈی چیرمین تلنگانہ انڈسٹریل انفرا اسٹرکچر کارپوریشن نے رکھا۔ کمپنی 650 کروڑ روپیہ کی لاگت سے 44 ایکر اراضی پر تعمیر ہوگی جس۔میں 1500 مقامی خواتین کو روزگار حاصل ہوگا۔ اس کمپنی میں مختلف برانڈس کی اشیاء￿ کی پیاکجنگ کے علاوہ فوڈ پراسیسنگ ہوگی۔ جگاریڈی اور نرملا جگاریڈی کی کاوشوں کی وجہ سے کمپنی کا قیام حلقہ سنگاریڈی میں عمل میں آیا۔ سنگ بنیاد تقریب کے بعد ڈی سریدھر بابو ریاستی وزیر برائے صنعتیں، آئی ٹی و امور مقننہ نے سنگاریڈی میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور بی جے پی پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت راتوں رات پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرکے غریب اور متوسط طبقہ کی کمر توڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی مرتبہ میں پٹرول کی قیمت میں تین روپئے اضافہ کیا گیا جس سے عوام پر مالی بوجھ عاید ہوگا اور گرانی میں اضافہ بھی ہوگا۔ چار ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے دوران قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ انتخابات مکمل ہوتے ہی عوام سے اضافی مالی بوجھ عاید کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ سری دھر بابو نے الزام عائد کیا کہ انتخابات سے صرف دو دن قبل پیٹرولیم عہدیداروں نے کہا تھا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا لیکن اب عوام کو گمراہ کرکے قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں۔ وزیر نے کہا کہ اگر عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو عوام پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ سمجھ سکتے ہیں۔ سابق میں جب بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں کم ہوئیں تو بی جے پی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کیوں کم نہیں کیں؟ انہوں نے سوال کیا کہ گزشتہ دو برسوں میں سب سے کم قیمت پر خام تیل دستیاب ہونے کے باوجود عوام کو راحت کیوں نہیں دی گئی۔ بی جے پی کا یہ فیصلہ غیر دانشمندانہ ہے اور کانگریس پارٹی اس کی سخت مذمت کرتی ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف شروعات ہے اور بی جے پی اپنا اصل چہرہ عوام کے سامنے لا رہی ہے۔ سری دھر بابو نے الزام لگایا کہ بی جے پی کا اصل مقصد تلنگانہ کے عوام کے درمیان نفرت اور اختلافات پیدا کرنا ہے، جبکہ کانگریس حکومت ریاستی عوام کی بھلائی اور ترقی کے لیے کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہِلٹ پالیسی کو ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے متعارف کروائی ہے۔ دہلی میں بڑھتی ہوئی آلودگی کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت مستقبل کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کررہی ہے۔ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی قیادت میں تمام وزراء متحد ہیں اور ریاست کی ترقی اور بھلائی کے لیے کانگریس حکومت مصروف کار ہے۔ دھان کی خریداری کے مسئلہ پر انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ غیر معمولی مقدار میں دھان مارکیٹ میں آیا ہے۔ بعض مقامات پر لاریوں کی آمد میں تاخیر کو بنیاد بناکر اپوزیشن جماعتیں غیر ضروری احتجاج کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے مسائل پر بات کرنے کا اخلاقی حق بی آر ایس کو نہیں ہے کیونکہ سابق میں بی آر ایس حکومت نے تروگو کے نام پر کسانوں کو دھوکہ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ہر دو دن میں دھان خریدی کے عمل کا جائزہ لے رہے ہیں اور حکومت کسانوں کی آخری دانہ تک خریداری کرے گی۔ انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی قسم کی تشویش میں مبتلا نہ ہوں۔ نیٹ امتحان کے پیپر لیک معاملہ پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سری دھر بابو نے کہا کہ نیٹ امتحان نیشنل لیکیج ایجنسی میں تبدیل ہوچکا ہے اور اس کی مکمل ذمہ داری بی جے پی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔قانونی معاملات پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت قوانین کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح بی آر ایس نے قوانین کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا، موجودہ حکومت ایسا نہیں کرے گی بلکہ قانون اپنا کام خود کرے گا۔